ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 205

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۵ ازالہ اوہام حصہ اول صاف طور پر فر ما دیا کہ کشفی امور کی تعبیر میں انبیاء سے بھی غلطی ہوسکتی ہے اور ان احادیث سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کی نسبت پیشگوئیاں فرمائی ہیں حقیقت میں وہ سب مکاشفات نبویہ ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مذکورہ بالا میں صریح اور صاف طور پر اس بات کی طرف اشارہ بھی کر دیا کہ ان مکاشفات کو صرف ظاہر پر حمل نہ کر بیٹھنا ان کی روحانی تعبیریں ہیں اور یہ سب امور اکثر روحانی ہیں جو ظاہری اشکال میں متمثل کر کے دکھلائے گئے ہیں مگر افسوس کہ ہمارے آج کل کے علماء ہمارے سید ومولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا نہیں چاہتے اور خواہ نخواہ کشفی استعارات کو حقیقت پر حمل کرنا چاہتے ہیں۔ واضح ہو کہ عالم کشف میں بڑے بڑے عجائبات ہوتے ہیں اور رنگارنگ کی تمثیلات دکھائی دیتی ہیں بعض اوقات عالم کشف میں ایسی چیزیں مجسم ہو کر نظر آجاتی ہیں کہ دراصل وہ روحانی ہوتی ہیں اور بعض وقت انسان کی شکل پر کوئی چیز دکھائی دیتی ہے اور دراصل (۲۱۳) وہ انسان نہیں ہوتا مثلاً زرارہ صحابی کا نعمان بن المنذر کو جو ایک عرب کا بادشاہ تھا تمام تر آرائش کے ساتھ خواب میں دیکھنا اور اس کی تعبیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمانا کہ اس سے مراد ملک عرب ہے جو پھر اپنی زینت اور آرائش کی طرف عود کر آیا ہے یہ صریح اس بات کی دلیل ہے کہ کشفی امور میں کہیں کی کہیں تعبیر چلی جاتی ہے ۔ چنانچہ اس عاجز کو بھی اس بات کا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض اوقات خواب یا کشف میں روحانی امور جسمانی شکل پر متشکل ہو کر مثل انسان نظر آ جاتے ہیں مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد صاحب غفر الله له جو ایک معزز رئیس اور اپنی نواح میں عزت کے ساتھ مشہور تھے انتقال کر گئے تو اُن کے فوت ہونے کے بعد دوسرے یا تیسرے روز ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں میں نے دیکھی جس کا حلیہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے اور اس نے بیان کیا کہ میرا نام رانی ہے اور مجھے اشارات سے کہا کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں