ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 204
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۴ ازالہ اوہام حصہ اول وهيب عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها اريتك في المنام مرتين ارى انك فى سرقة من حرير و يقول هذه امرأتك فاكشف عنها فاذا هى انت فاقول ان یک هذا من عند الله يمضه یعنی حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ تو خواب میں مجھے دو دفعہ دکھائی گئی اور میں نے تجھے ایک ریشم کے ٹکڑے پر دیکھا اور کہا گیا کہ یہ ۲۱ تیری عورت ہے اور میں نے اس کو کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تو ہی ہے اور میں نے کہا کہ اگر خدائے تعالی کی طرف سے یہی تعبیر ہے جو میں نے سمجھی ہے تو ہو رہے گی یعنی خوابوں اور مکاشفات کی تعبیر ضرور نہیں کہ ظاہر پرہی واقعہ ہو بھی تو ظاہر پر ہی واقعہ ہو جاتی ہے اور کبھی غیر ظاہر پر وقوع میں آتی ہے سو اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب کی سچائی میں شک نہیں کیا کیونکہ نبی کی خواب تو ایک قسم کی وحی ہوتی ہے بلکہ اس کی طرز وقوع میں تر در بیان کیا ہے کہ خدا جانے اپنی ظاہری صورت کے لحاظ سے وقوع میں آوے یا اُس کی اور کوئی تعبیر پیدا ہو اور اس جگہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے یہ بھی بخوبی ثابت ہو گیا کہ جو وحی کشف یا خواب کے ذریعہ سے کسی نبی کو ہو وے اس کی تعبیر کرنے میں غلطی بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ اسی صفحہ ۵۵۱ میں ایک دوسری حدیث میں ایسی غلطی کے بارے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے اور وہ یہ ہے قال ابو موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم رأيت في المنام اني اهاجر من مكة الى ارض بها نخل فذهب وهلى فاذا الى انها اليمامة او هجرة هي المدينة يشرب ۔ یعنی ابوموسی سے روایت ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی ۲۲ طرف ہجرت کرتا ہوں جس میں کھجوریں ہیں پس میر اوہم اس طرف گیا کہ وہ بیمامہ یا ہجر ہوگا مگر آخر وہ مدینہ نکلا جس کو میٹر ب بھی کہتے ہیں۔ اس حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے