ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 203
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۳ ازالہ اوہام حصہ اول اپنے ظہور کے وقت اپنے فتنہ اندازی کے کام کے گرد پھرے گا اور اُس کا انجام پذیر ہو جانا چاہے گا۔ اب کہاں ہیں وہ حضرات مولوی صاحبان جوان حدیثوں کے الفاظ کو حقیقت پر حمل کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے معانی کو ظاہر عبارت سے پھیرنا کفر والحاد سمجھتے ہیں ذرہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ سلف صالح نے اس حدیث کے معنے کرنے کے وقت مسیح دجال کے طواف کرنے کو ایک خواب کا معاملہ سمجھ کر کیسی اس کی تعبیر کر دی ہے جو ظاہر الفاظ سے بہت بعید ہے پھر جس حالت میں لاچار ہو کر اُن مکاشفات کی ایک جز کی تعبیر کی گئی تو پھر کیا وجہ کہ با وجود موجود ہونے قرائن قویہ کے دوسری جزوں 104 کی تعبیر نہ کی جائے۔ واضح ہو کہ جس طرح ہمارے علماء نے مسیح دجال کے طواف کو ایک کشفی امر سمجھ کر اس کی ایک روحانی تعبیر کر دی ہے ایسا ہی خود جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مقامات میں ظاہر فرما دیا کہ جو کچھ میرے پر کشفی طور پر کھلتا ہے جب تک منجانب اللہ قطعی اور یقینی معنے اس کے معلوم نہ ہوں میں ظاہر پر حمل نہیں کر سکتا ۔ مثلاً اس حدیث کو دیکھو جو صحیح بخاری کے صفحہ ۵۵۱ میں درج ہے اور وہ یہ ہے حـدثـنـا مـعـلـى قال حدثنا