ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 199

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۹۹ ازالہ اوہام حصہ اول یہاں تک بخاری کی حدیث کا ترجمہ ہو چکا اور آپ لوگوں نے سمجھ لیا ہوگا کہ امام بخاری صاحب امامکم منکم کے لفظ سے کس طرف اشارہ کر گئے ہیں العاقل يكفيه الاشارة اب مسلم کی حدیث کا ترجمہ متوجہ ہو کر سنیں اور وہ یہ ہے۔ صحیح مسلم وعن النواس بن ترجمه ☆ اور نواس بن سمعان سے روایت ہے کہ رسول خدا صلعم نے سمعان قال ذكر دجال کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر میری زندگی میں دجال نکل آوے تو میں رسول الله صلعم تمہارے سامنے اس سے جھگڑوں گا (یہ فقرہ آئندہ کی پیشگوئی کو جو ضرور الدجال - فقال ان مسیح ابن مریم کے نازل ہونے کے وقت دجال نکلے گا ضعیف کرتا ہے يخرج وانا فیکم بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجال کے نکلنے کا کوئی خاص وقت فانا حجیجه دو نکم مقررنہیں کیا گیا تب ہی تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد پر وان يخرج ولست بھی دجال ہونے کا گمان کیا تھا اُس وقت مسیح کہاں تھا ؟ ) اور پھر فرمایا فيكم فكل امرء اگر دجال نکلا اور میں تم میں نہ ہوا تو ہر یک شخص اپنی ذات سے اُس سے حجيج نفسه والله خليفتي على كل لڑے گا یعنی دلائل عقلیہ و شرعیہ کے ساتھ۔ اور فرمایا کہ میرے بعد * مسلم انه شاب خدائے تعالیٰ ہر ایک مسلمان میرا خلیفہ ہے اور پھر فرمایا کہ اس کے بال قطط عينه طافية كانی بہت مڑے ہوئے ہیں اور آنکھیں پھولی ہوئی گویا میں (عالم کشف أشبهه بعبد العزی ابن میں ) عبد العزیٰ ابن قطن کے ساتھ اُس کو تشبیہ دیتا ہوں ۔ قطن فمن ادركه منكم فليقرء عليه فواتح | تشریح ۲۰۲ سورة الكهف فانها ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کو خواب ۲۰۳ جواركم من فتنة یا کشف کی حالت میں دیکھا تھا اور چونکہ وہ ایک مثالی عالم ہے اس لئے حاشیه : بانی مبانی اس تمام روایت کا صرف نواس بن سمعان ہے اور کوئی نہیں ہے۔ یہ بات نہایت عجیب ہے کہ اس روایت کی نسبت اجماع صحابہ کا خیال کیا جاتا ہے اور عنقریب معلوم ہوگا کہ یہ اور روایتوں کے برخلاف ہے۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے مسلمان پر “ ہونا چاہیے۔(ناشر)