ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 199
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۹۹ ازالہ اوہام حصہ اول یہاں تک بخاری کی حدیث کا ترجمہ ہو چکا اور آپ لوگوں نے سمجھ لیا ہو گا کہ امام بخاری صاحب امامکم منکم کے لفظ سے کس طرف اشارہ کر گئے ہیں العاقل يكفيه الاشارة اب مسلم کی حدیث کا ترجمہ متوجہ ہو کر سنیں اور وہ یہ ہے۔ صحیح مسلم ترجمه اور نواس بن سمعان سے روایت ہے کہ رسول خدا صلعم نے وعن النواس بن سمعان قال ذکر دجال کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر میری زندگی میں دجال نکل آوے تو میں رسول الله صلعم تمہارے سامنے اس سے جھگڑوں گا ( یہ فقرہ آئندہ کی پیشگوئی کو جو ضرور الدجال۔ فقال ان مسیح ابن مریم کے نازل ہونے کے وقت دجال نکلے گا ضعیف کرتا ہے يخرج وانا فيكم بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجال کے نکلنے کا کوئی خاص وقت | فانا حجيجه دو نکم مقرر نہیں کیا گیا تب ہی تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد پر وان يخرج ولست بھی دجال ہونے کا گمان کیا تھا اس وقت مسیح کہاں تھا ؟ ) اور پھر فرمایا فيــكــم فـكـل امرء اگر دجال نکلا اور میں تم میں نہ ہوا تو ہر یک شخص اپنی ذات سے اُس سے لڑے گا یعنی دلائل عقلیہ و شرعیہ کے ساتھ ۔ اور فرمایا کہ میرے بعد خدائے تعالیٰ ہر ایک مسلمان میرا خلیفہ ہے اور پھر فرمایا کہ اس کے بال قطط عينه طافية كانی بہت مڑے ہوئے ہیں اور آنکھیں پھولی ہوئی گویا میں ( عالم کشف اور (عالم کشف أشبهة بعبد العزى ابن میں ) عبد العزیٰ ابن قطن کے ساتھ اُس کو تشبیہ دیتا ہوں۔ حجیج نفسه والله لیفتی علی کل انه شاب قطن فمن ادر که منکم فليقرء عليه فواتح تشریح سورة الكهف فانها ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کو خواب (۲۰۳) جواركم من فتنة یا کشف کی حالت میں دیکھا تھا اور چونکہ وہ ایک مثالی عالم ہے اس لئے حاشیه : بانی مبانی اس تمام روایت کا صرف نواس بن سمعان ہے اور کوئی نہیں ہے۔ یہ بات نہایت عجیب ہے کہ اس روایت کی نسبت اجماع صحابہ کا خیال کیا جاتا ہے اور عنقریب معلوم ہوگا کہ یہ اور روایتوں کے برخلاف ہے ۔ م سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” مسلمان پر “ہونا چاہیے۔(ناشر) منه