ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 197

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۹۷ ازالہ اوہام حصہ اول لازم ہے کیونکہ جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعوی نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے اسی وجہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک خدائے تعالیٰ کی طرف سے بعض عبادات کے ادا کرنے کے بارہ میں وحی نازل نہیں ہوتی تھی تب تک اہل کتاب کی سنن دینیہ پر قدم مارنا بہتر جانتے تھے اور بر وقت نزول وحی اور دریافت اصل حقیقت کے اس کو چھوڑ دیتے تھے سو اسی لحاظ سے حضرت مسیح بن مریم کی نسبت اپنی طرف سے براہین میں کوئی بحث نہیں کی گئی تھی اب جو خدائے تعالیٰ نے حقیقت امر کو اس عاجز پر ظاہر فرمایا تو عام طور پر اس کا اعلان از بس ضروری تھا لیکن مجھے اگر کچھ افسوس ہے تو اس زمانہ کے اُن مولوی صاحبان ۱۹۹) پر ہے کہ جنہوں نے قبل اس کے جو میری تحریر پر غور اور خوض کی نگاہ کریں رڈ لکھنے شروع کردئے ہیں۔ مصنفین اور محققین خوب سمجھتے ہیں کہ جس قدر حال کے بعض مولوی صاحبوں نے مجھے اپنی دیر بینہ رائے کا مخالف ٹھہرایا ہے غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ در حقیقت اتنی بڑی مخالفت نہیں ہے جس پر اتنا شور مچایا گیا۔ میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے اور یہ بھی ظاہر رہے کہ یہ کچھ میرا ہی خیال نہیں کہ مثیل مسیح بہت ہو سکتے ہیں بلکہ احادیث نبویہ کا بھی یہی منشاء پایا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک قریب تمہیں کے دجال پیدا ہوں گے اب ظاہر ہے کہ جب میں دجال کا آنا ضروری ہے تو بحکم لِكُلّ دجال عیسی میں مسیح بھی آنے چاہیے۔ پس اس بیان کے رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر (۲۰) حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت