ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 192
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۹۲ علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ ازالہ اوہام حصہ اول اے برادران دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعوی کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتفریح درج کر دیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا میں نے یہ دعویٰ ہر گز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذ آب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ کے (191) خدائے تعالی نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں اور دوسرے کئی امور میں جن کی تصریح انہیں رسالوں میں کر چکا ہوں میری زندگی کو مسیح ابن مریم کی زندگی سے اشد مشابہت ہے اور یہ بھی میری طرف سے کوئی نئی بات ظہور میں نہیں آئی کہ میں نے ان رسالوں میں اپنے تیں وہ موعود ٹھہرایا ہے جس کے آنے کا قرآن شریف میں اجمالاً اور احادیث میں تصریحاً بیان کیا گیا ہے کیونکہ میں تو پہلے بھی براہین احمدیہ میں بتفریح لکھ چکا ہوں کہ میں وہی مثیل موعود ہوں جس کے آنے کی خبر روحانی طور پر قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں پہلے سے وارد ہو چکی ہے۔ تعجب کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی اپنے رسالہ اشاعة السنة نمبر 4 جلدسات میں جس میں براہین احمدیہ کار یو یو لکھا ہے ان تمام الہامات کی اگر چہ ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر تصدیق کر چکے اور بدل جان مان چکے ہیں مگر پھر بھی سنا جاتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب موصوف کو بھی اور لوگوں کا شور اور غوغا دیکھ کر