ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 191
روحانی خزائن جلد۳ ۱۹۱ ازالہ اوہام حصہ اول دیکھا مگر قبول نہ کیا ان کی حالت کو میں کس قوم کی حالت سے تشبیہ دوں اُن کی نسبت یہی تمثیل ٹھیک آتی ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وعدہ کے موافق ایک شہر میں اپنی طرف سے ایک حاکم ۱۸۸۶) مقرر کر کے بھیجا تا وہ دیکھے کہ در حقیقت مطیع کون ہے اور نا فرمان کون اور تا اُن تمام جھگڑوں کا تصفیہ بھی ہو جائے جو اُن میں واقع ہورہے ہیں چنانچہ وہ حاکم عین اُس وقت میں جبکہ اس کے آنے کی ضرورت تھی آیا اور اُس نے اپنے آقا نامدار کا پیغام پہنچادیا اور سب لوگوں کو راہ راست کی طرف بلایا اور اپنا حکم ہونا اُن پر ظاہر کر دیا لیکن وہ اس کے ملازم سرکاری ہونے کی نسبت شک میں پڑ گئے تب اُس نے ایسے نشان دکھلائے جو ملازموں سے ہی خاص ہوتے ہیں مگر انہوں نے نہ مانا اور اُسے قبول نہ کیا اور اُس کو کراہت کی نظر سے دیکھا اور اپنے تئیں بڑا سمجھا اور اس کا حکم ہونا اپنے لئے قبول نہ کیا بلکہ اس کو پکڑ کر بے عزت کیا اور اس کے منہ پر تھوکا اور اس کے مارنے کے لئے دوڑے اور بہت سی تحقیر و تذلیل کی اور بہت سی سخت زبانی کے ساتھ اُس کو جھٹلایا تب وہ اُن کے ہاتھ سے وہ تمام آزار اُٹھا کر جو اس کے حق میں مقدر تھے اپنے بادشاہ کی طرف واپس چلا گیا اور وہ لوگ جنہوں نے اُس کا ایسا بُرا حال کیا کسی اور حاکم کے آنے کے منتظر بیٹھے رہے اور جہالت کی راہ سے ایسے خیال باطل پر جمے رہے کہ یہ تو (۱۸۹) حاکم نہیں تھا بلکہ وہ اور شخص ہے جو آئے گا جس کی انتظاری ہمیں کرنی چاہیے سو وہ سارا دن اس شخص کی انتظار کئے گئے اور اُٹھ اُٹھ کر دیکھتے رہے کہ کب آتا ہے اور اس وعدہ کا باہم ذکر کرتے رہے جو بادشاہ کی طرف سے تھا یہاں تک کہ انتظار کرتے کرتے سورج غروب ہونے لگا اور کوئی نہ آیا آخر شام کے قریب بہت سے پولیس کے سپاہی آئے جن کے ساتھ بہت سی ہتکڑیاں بھی تھیں سو انہوں نے آتے ہی اُن شریروں کے شہر کو پھونک دیا اور پھر سب کو پکڑ کر ایک ایک کو ہتکڑی لگا دی اور عدالت شاہی کی طرف بجرم عدول حکمی اور مقابلہ ملازم سرکاری چالان کر دیا جہاں سے انہیں وہ سزائیں مل گئیں جن کے وہ سزاوار تھے۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہی حال اس زمانہ کے جفا کارمنکروں کا ہوگا ہر یک شخص اپنی زبان اور قلم اور ہاتھ کی شامت سے پکڑا جائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔