ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 186
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۸۶ ازالہ اوہام حصہ اول قریب تر با من ونزدیک تر بسعادت کون لوگ ہیں۔ کیا وہ لوگ جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا یا وہ لوگ جو منکر ہو گئے واضح ہو کہ یہ بات نہایت صاف اور روشن ہے کہ جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا ہے وہ لوگ ہر یک خطرہ کی حالت سے محفوظ اور معصوم ہیں اور کئی طرح کے ثواب اور اجر اور قوت ایمانی کے وہ مستحق ٹھہر گئے ہیں۔ اوّل یہ کہ انہوں نے اپنے بھائی پر حسن ظن کیا ہے اور اس کو مفتری یا کذاب نہیں ٹھہرایا اور ۱۸۰ اس کی نسبت کسی طرح کے شکوک فاسدہ کو دل میں جگہ نہیں دی اس وجہ سے اس ثواب کا انہیں استحقاق حاصل ہوا کہ جو بھائی پر نیک ظن رکھنے کی حالت میں ملتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ حق کے قبول کرنے کے وقت کسی ملامت کنندہ کی علامت سے نہیں ڈرے اور نہ نفسانی جذبات اُن پر غالب ہو سکے اس وجہ سے وہ ثواب کے مستحق ٹھہر گئے کہ انہوں نے دعوت حق کو پا کر اور ایک ربانی مناد کی آواز سن کر پیغام کو قبول کر لیا اور کسی طرح کی روک سے رُک نہیں سکے۔ تیسری یہ کہ پیشگوئی کے مصداق پر ایمان لانے کی وجہ سے وہ اُن تمام وساوس سے مخلصی پاگئے کہ جو انتظار کرتے کرتے ایک دن پیدا ہو جاتے ہیں اور آخریاس کی حالت میں ایمان دور ہو جانے کا موجب ٹھہرتے ہیں اور اُن سعید لوگوں نے نہ صرف خطرات مذکورہ بالا سے مخلصی پائی بلکہ خدائے تعالیٰ کا ایک نشان اور اس کے نبی کی پیشگوئی اپنی زندگی میں پوری