ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 177

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷۷ ازالہ اوہام حصہ اول رد کرے نہ عقلی نہ نفلی و شرعی ۔ کیونکہ کشف کی خود شریعت مؤید ہے۔ پھر صفحہ ۴۸ میں فرماتے ہیں کہ بہتیرے اولیاء اللہ سے مشتہر ہو چکا ہے کہ وہ آنحضرت صلعم (۱۵۱) سے عالم ارواح میں یا بطور کشف ہم مجلس ہوئے اور اُن کے ہمعصروں نے اُن کے دعوے کو تسلیم کیا۔ پھر امام شعرانی صاحب نے ان لوگوں کے نام لئے ہیں جن میں سے ایک امام محدث جلال الدین سیوطی بھی ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق جلال الدین سیوطی کا دستخطی اُن کے صحبتی شیخ عبد القادر شاذلی کے پاس پایا جو کسی شخص کے نام خط تھا جس نے اُن سے بادشاہ وقت کے پاس سفارش کی درخواست کی تھی سو امام صاحب نے اس کے جواب میں لکھا تھا کہ میں آنحضرت صلعم کی خدمت میں تصحیح احادیث کے لئے جن کو محد ثین ضعیف کہتے ہیں حاضر ہوا کرتا ہوں چنانچہ اس وقت تک پچھتر دفعہ حالت بیداری میں حاضر خدمت ہو چکا ہوں اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میں بادشاہ وقت کے پاس جانے کے سبب اس حضوری سے رک جاؤں گا تو قلعہ میں جاتا اور تمہاری سفارش کرتا۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے جو فتوحات میں اس بارے میں لکھا ہے اُس میں سے بطور خلاصہ یہ مضمون ہے کہ اہل ولایت بذریعہ کشف آنحضرت صلعم سے احکام پوچھتے ہیں اور اُن میں سے جب کسی کو کسی واقعہ میں حدیث کی حاجت پڑتی ہے تو وہ (۱۵۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو جاتا ہے پھر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتے ہیں۔ اور آنحضرت جبرائیل سے وہ مسئلہ جس کی ولی کو حاجت ہوتی ہے پوچھ کر اُس ولی کو بتا دیتے ہیں یعنی ظلّی طور پر وہ مسئلہ بہ نزول جبرائیل منکشف ہو جاتا ہے۔ پھر شیخ ابن عربی نے فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرت صلعم سے احادیث کی تصحیح کرا لیتے ہیں۔ بہتیری حدیثیں ایسی ہیں جو محدثین کے نزدیک صحیح ہیں اور وہ