ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 171

روحانی خزائن جلد ۳ 121 ازالہ اوہام حصہ اول اور علماء وقت اُن کو قبول کرتے رہے ہیں لیکن اس زمانہ کے اکثر علماء کی یہ عجیب عادت ہے کہ اگر خدائے تعالی کا الہام ولایت جس کا کبھی سلسلہ منقطع نہیں اپنے وقت پر بعض مجمل مکاشفات نبویہ اور استعارات سر بستہ قرآنیہ کی کوئی تفسیر کرے تو بنظر انکار و استہزاء اُس کو دیکھتے ہیں حالانکہ صحاح میں ہمیشہ یہ حدیث پڑھتے ہیں کہ قرآن شریف کے لئے ظہر و بطن دونوں ہیں اور اس کے عجائبات قیامت تک ختم نہیں ہو سکتے اور ہمیشہ اپنے منہ سے اقرار کرتے ہیں کہ اکثر اکابر محد ثین کشوف والہامات اولیاء کوحدیث صحیح کے قائم مقام سمجھتے رہے ہیں۔ ہم نے جو رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام میں اس اپنے کشفی و الہامی امر کو شائع کیا ہے کہ مسیح موعود سے مراد یہی عاجز ہے میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پر بہت افروختہ (۱۴۰) ہوئے ہیں اور انہوں نے اس بیان کو ایسی بدعات میں سے سمجھ لیا ہے کہ جو خارج اجماع اور برخلاف عقیدہ متفق علیہا کے ہوتی ہیں حالانکہ ایسا کرنے میں اُن کی بڑی غلطی ۔ ی ہے۔ اول تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صد با پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں ۔ جس زمانہ تک یہ پیشگوئی بیان نہیں کی گئی تھی اُس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا اور پیشگوئیوں کے بارہ میں یہ ضروری نہیں کہ وہ ضرور اپنی ظاہری صورت میں پوری ہوں بلکہ اکثر پیشگوئیوں میں ایسے ایسے اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں کہ قبل از ظهور پیشگوئی خود انبیاء کو ہی جن پر وہ وحی نازل ہو سمجھ میں نہیں آ سکتے چہ جائیکہ دوسرے لوگ ان کو یقینی طور پر سمجھ لیویں دیکھو جس حالت میں ہمارے سید و مولی آپ اس بات کا اقرار کرتے ہوں کہ بعض پیشگوئیوں کو میں نے کسی اور صورت پر سمجھا اور ظہور اُن کا کسی اور صورت ۱۴۱ کے پر ہوا تو پھر دوسرے لوگ گو فرض کے طور پر ساری اُمت ہی کیوں نہ ہو کب ایسا دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں غلطی نہیں سلف صالح ہمیشہ اس طریق کو پسند کرتے رہے ہیں