ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 170
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷۰ ازالہ اوہام حصہ اول خاتم النبیین و خیرالمرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ۱۳۸ ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تمنشیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کرسکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنی درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتدا اُس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے ۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے خالی اور طفیلی طور پر ملتا ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہو کر تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں اُن کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطور کل کے واقع ہیں اور اُن میں بعض ایسے جز کی فضائل ہیں جو آب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہو سکتے ۔ غرض ہمارا اُن تمام باتوں پر ایمان ہے جو قرآن شریف میں درج ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے تعالیٰ کی طرف سے لائے اور تمام ۱۳۹) محدثات اور بدعات کو ہم ایک فاش ضلالت اور جہنم تک پہنچانے والی راہ یقین رکھتے ہیں مگر افسوس کہ ہماری قوم میں ایسے لوگ بہت ہیں جو بعض حقائق اور معارف قرآنیہ اور دقائق آثار نبویہ کو جو اپنے وقت پر بذریعہ کشف و الہام زیادہ تر صفائی سے کھلتے ہیں محدثات اور بدعات میں ہی داخل کر لیتے ہیں حالانکہ معارف مخفیہ قرآن و حدیث ہمیشہ اہل کشف پر کھلتے رہے ہیں