ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 164
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۶۴ ازالہ اوہام حصہ اول میری طرف سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک وحی ہے جو ہر ایک استعداد (19) پر بحسب اُس کی حالت کے اُتر رہی ہے یعنی صاف نظر آئے گا کہ جو کچھ انسانوں کے دل و دماغ کام کر رہے ہیں یہ ان کی طرف سے نہیں بلکہ ایک غیبی تحریک ہے کہ اُن سے یہ کام کرا رہی ہے سو اُس دن ہر ایک قسم کی قوتیں جوش میں دکھائی دیں گی ۱۲۰ دنیا پرستوں کی قوتیں فرشتوں کی تحریک سے جوش میں آکر اگر چہ باعث نقصان استعداد کے سچائی کی طرف رُخ نہیں کریں گی لیکن ایک قسم کا اُبال ان میں پیدا ہو کر اور انجماد اور افسردگی دور ہو کر اپنی معاشرت کے طریقوں میں عجیب قسم کی تدبیریں اور صنعتیں اور گلیں ایجاد کر لیں گے اور نیکوں کی قوتوں میں خارق عادت طور پر الہامات اور ۱۲۱ مکاشفات کا چشمہ صاف صاف طور پر بہتا نظر آئے گا اور یہ بات شاذ و نادر ہوگی کہ مومن کی خواب جھوٹی نکلے تب انسانی قومی کے ظہور و بروز کا دائرہ پورا ہو جائے گا اور جو کچھ یہ بات شاذ و نادر ہوتی ہے کہ کوئی مذہبی مخالف اپنے دشمن کی کرامات کا قائل ہو لیکن اس راقم نے مرزا صاحب مرحوم کے بعض خوارق عادت اُن سکھوں کے منہ سے سنے ہیں جن کے باپ دادا مخالف گروہ میں شامل ہو کر لڑتے تھے ۔ اکثر آدمیوں کا بیان ہے کہ بسا اوقات مرزا صاحب مرحوم صرف اکیلے ہزار ہزار آدمی کے مقابل پر میدان جنگ میں نکل کر اُن پر فتح پالیتے تھے اور کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ اُن کے نزدیک آ سکے اور ہر چند جان تو ڑ کر دشمن کا لشکر کوشش کرتا تھا کہ تو پوں یا بندوقوں کی گولیوں سے اُن کو مار دیں مگر کوئی گولی یا گولہ اُن پر کارگر نہیں ہوتا تھا۔ یہ کرامت اُن کی صدہا موافقین اور مخالفین بلکہ سکھوں کے منہ سے سنی گئی ہے جنہوں نے اپنے لڑنے والے باپ دادوں سے سند ا بیان کی تھی لیکن میرے نزدیک یہ کچھ تعجب کی بات نہیں اکثر لوگ ایک زمانہ دراز تک جنگی فوجوں میں نوکر رہ کر بہت سا حصہ اپنی عمر کالڑائیوں میں بسر کرتے ہیں اور قدرت حق سے کبھی ایک خفیف سا زخم بھی تلوار یا بندوق کا اُن کے بدن کو نہیں پہنچتا ۔ سو یہ کرامت اگر معقول طور پر بیان کی جائے کہ خدائے تعالیٰ اپنے خاص فضل سے دشمنوں کے حملوں سے انہیں بچا تا رہا تو کچھ حرج کی بات نہیں اس میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ مرزا صاحب مرحوم دن کے وقت ایک پُر ہیبت بہادر اور رات کے وقت ایک باکمال عابد تھے اور معمور الاوقات اور متشرع تھے ۔ اُس زمانہ میں قادیان میں وہ نور اسلام چمک رہا تھا کہ اردگرد کے مسلمان اس قصبہ کو مکہ کہتے تھے لیکن