ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 155
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۵۵ ازالہ اوہام حصہ اول رات میں جن جن نبیوں سے ملاقات کی اُن سب کا ایک ہی طرز اور ایک ہی طور پر حال بیان کیا ۱۰۰ ہے حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت بیان نہیں فرمائی۔ کیا یہ مقام علماء کے توجہ کرنے کے لائق نہیں؟ ایک نہایت لطیف نکتہ جو سورۃ القدر کے معانی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا ہے کہ جس وقت کوئی آسمانی مصلح زمین پر آتا ہے تو اس کے ساتھ فرشتے آسمان سے اتر کر مستعد لوگوں کو حق کی 101 طرف کھینچتے ہیں پس ان آیات کے مفہوم سے یہ جدید فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر سخت ضلالت اور غفلت کے زمانہ میں یک دفعہ ایک خارق عادت طور پر انسانوں کے قومی میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت پیدا ہونی شروع ہو جائے تو وہ اس بات کی علامت ہو گی کہ کوئی لکھا ہے وہ بھی در حقیقت اس اعزاز کے ارادہ سے ہے ورنہ ہر جگہ در حقیقت رجل ہی مراد ہے اس تمام تحقیق سےمعلوم ہوا کہ ارث کی بہت ہی عمدہ علامت احادیث میں ہے کہ ایمانی نمونہ لے کر دنیا میں آئے گا اور اپنی قوت ایمانی کی شاخیں اور اُن کے پھل ظاہر کر کے ضعیفوں کو تقویت بخشے گا اور کمزوروں کو سنبھال لے گا اور اپنی صداقت کی شعاعوں سے شہر سیرت مخالفوں کو خیرہ کر دے گالیکن مومنوں کے لئے آنکھ کی روشنی اور کلیجے کی ٹھنڈک کی طرح سکینت اور اطمینان (1) اور تسلی کا موجب ہوگا اور ایمانی معارف کا معلم بن کر ایمانی روشنی کو قوم میں پھیلائے گا۔ اور ہم رسالہ فتح اسلام میں ظاہر کر آئے ہیں کہ در حقیقت مسیح بھی ایک ایمانی معارف کا سکھلانے والا اور ایمانی معلم تھا اور یہ بھی ظاہر کر آئے ہیں کہ مسیح بھی ظاہری لڑائیوں کے لئے نہیں آئے گا بلکہ بخاری نے یضع الحرب اس کی علامت لکھی ہے اور یہ کہ اُس کا قتل کرنا اپنے دم کی ہوا سے ہوگا نہ تلوار سے یعنی موجہ باتوں سے روحانی طور پر قتل کرے گا۔ سو مسیح اور حارث کا ان دونوں علامتوں میں شریک ہونا اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ حارث اور مسیح موعود در اصل ایک ہی ہیں (۱۳) اور یہ حارث موعود کی پہلی علامت ہے جو ہم نے لکھی ہے یعنی یہ کہ وہ نہ سیف کے ساتھ نہ سنان کے ساتھ بلکہ اپنی قوت ایمان کے ساتھ اور اپنے انوار عرفان کے ساتھ اپنی قوم کو تقویت دے گا جیسے قریش نے یعنی صدیق و فاروق و حیدر کرار ودیگر مومنین مکہ نے انہیں صفات استقامت کے ساتھ