ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 141

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۴۱ ازالہ اوہام حصہ اول چھوٹے بڑے چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ وہ آئے وہ آئے یہاں تک کہ دمشق کے شرقی منارہ پر اُتر آئے اور بذریعہ زینہ کے نیچے اتارے گئے اور ایک دوسرے سے سلام علیک اور مزاج پرسی (۸۰) ہوئی ۔ تعجب کہ یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ دنیا میں کہ ایک دارالا بتلا جگہ ہے ایسے معجزات ظہور پذیر ہر گز نہیں ہوتے ورنہ دعوت اسلام ایمان بالغیب کی حد سے باہر ہو جائے ۔ ہم پہلے اس سے لکھ چکے ہیں کہ کفار مکہ نے اسی قسم کا کوئی معجزہ ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم افضل الرسل سے بھی مانگا تھا جن کو صاف یہ جواب دیا گیا کہ ایسا ہونا سنت اللہ سے باہر ہے ہ جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا اور اس کشف میں جو میں نے اپنے بھائی صاحب مرحوم کو جو کئی سال سے وفات پاچکے ہیں قرآن شریف پڑھتے دیکھا اور اس الہامی فقرہ کو ان کی زبان سے قرآن شریف میں پڑھتے سنا تو اس میں یہ بھید مخفی ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا ۷۸ کہ اُن کے نام سے اس کشف کی تعبیر کو بہت کچھ تعلق ہے یعنی اُن کے نام میں جو قادر کا لفظ آتا ہے اس لفظ کو کشفی طور پر پیش کر کے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قادر مطلق کا کام ہے اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے اس کے عجائبات قدرت اسی طرح پر ہمیشہ ظہور فرما ہوتے ہیں کہ وہ غریبوں اور حقیروں کو عزت بخشتا ہے اور بڑے بڑے معززوں اور بلند مرتبہ لوگوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ بڑے بڑے علماء و فضلاء اس کے آستانہ فیض سے بکلی بے نصیب اور محروم رہ جاتے ہیں اور ایک ذلیل حقیر امی جابل نالائق منتخب ہو کر مقبولین کی جماعت میں داخل کر لیا جاتا ہے۔ ہمیشہ سے اس کی کچھ ایسی ہی عادت ہے اور قدیم سے وہ ایسا ہی کرتا چلا آیا ہے۔ وذالک فضل الله يؤتيه من يشاء۔ اب میں وہ حدیث جوابوداؤد نے اپنی صحیح میں لکھی ہے ناظرین کے سامنے پیش کر کے اس (29) کے مصداق کی طرف ان کو توجہ دلاتا ہوں۔ سو واضح ہو کہ یہ پیشگوئی جو ابو داؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حرکت ماورائے نہر سے یعنی سمرقند کی طرف سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی ۔ الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا۔ دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔ مسیح کے نام پر جو پیشگوئی ہے اس کی علامات خاصہ درحقیقت دو ہی ہیں