ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 140

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۴۰ ازالہ اوہام حصہ اول حالانکہ وہ بجائے خود اپنے تئیں معذور سمجھتے تھے کیونکہ اُن کی بائبل کے ظاہری الفاظ پر نظر (۷۸) تھی۔ افسوس کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح کی نسبت یہودیوں کی طرح اُن کے دلوں میں بھی یہی خیال جما ہوا ہے کہ ہم انہیں سچ مچ آسمان سے اتر تے دیکھیں گے اور یہ امجو بہ ہم بچشم خود دیکھیں گے کہ حضرت مسیح زرد رنگ کی پوشاک پہنے ہوئے آسمان سے اتر تے چلے آتے ہیں اور دائیں بائیں فرشتے اُن کے ساتھ ہیں اور تمام بازاری لوگ اور دیہات کے آدمی ایک بڑے میلہ کی طرح اکٹھے ہو کر دور سے اُن کو دیکھ رہے ہیں اور فيه اختلافا كثيرًا۔ قل لو اتبع الله اهواء كم لفسدت السموات والارض ومن فيهن ولبطلت حكمته وكان الله عزیز احكيمًا۔ قل لو كان البحر مدادًا لكلمات ربي لـ لنفد البحر قبل ان تنفد كلمات ربى ولو جئنا بمثله مددًا۔ قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله وكان الله غفورا رحيما ۔ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں میری پرستش کی جگہ میں اُن کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کر رہے ہیں ( ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندوستان میں سکور یاں کہتے ہیں۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں)۔ اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنه قريبا من القادیان تو میں نے سنکر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھولکھا ہوا ہے تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا ارے لے کر