ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 138
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۸ ازالہ اوہام حصہ اول ۷۴ کسی اونچی عمارت پر آ کر اُتار دیں گے پھر کسی زینہ کے ذریعہ سے حضرت ایکیا نیچے اُتر آئیں گے اور یہودیوں کے تمام مخالفوں کو روئے زمین سے نابود کر ڈالیں گے اور چونکہ اُن کی کتابوں میں جو کتب الہامیہ ہیں یہ بھی لکھا ہے کہ ضرور ہے کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا آسمان سے اُترے اسی وقت کی وجہ سے یعنی اس سبب سے کہ ۷۵ ایلیا اُن کے گمان میں اب تک آسمان سے نہیں اُتر امسیح ابن مریم پر وہ ایمان نہیں لائے اور صاف کہہ دیا کہ ہم نہیں جانتے کہ تو کون ہے کیونکہ وہ مسیح جس کی ہمیں انتظار ہے ضرور ہے کہ اُس سے پہلے ایلیا آسمان سے اُتر کر اُس کی راہوں کو اب پہلے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ خدا تعالی نے مجھ پر یہ ظاہر فرما دیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تعقیبات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بسا ۲) اوقات ایک ادنی مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں مثلاً ایک بہادر انسان کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے اور شیر نام رکھتے ہیں یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ شیر کی طرح اس کے پنجے ہوں اور ایسی ہی بدن پر پشم ہو اور ایک دم بھی ہو بلکہ صرف صفت شجاعت کے لحاظ سے ایسا اطلاق ہو جاتا ہے اور عام طور پر جمیع انواع استعارات میں یہی قاعدہ ہے سو خدائے تعالیٰ نے اسی عام قاعدہ کے موافق اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اس بارہ میں قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا که اخرج منه اليزيديون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں ۔ اب اگر چہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسی کامل تصریح سے خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے مگر خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے اور ان لوگوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ یہ یزیدی الطبع ہیں یعنی اکثر وہ لوگ جو اس جگہ رہتے ہیں وہ اپنی فطرت میں یزیدی لوگوں کی فطرت سے مشابہ ہیں اور یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ انا انزلناہ قريبا من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل وكان وعد الله مفعولا یعنی ہم نے اُس کو