ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 137

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۷ ازالہ اوہام حصہ اول دی کہ وہ ایلیا جس کا آسمان سے اتر نا انتظار کیا جاتا ہے یہی یحی زکریا کا بیٹا ہے کہ جو آپ کا مرشد ہے لیکن یہودیوں نے قبول نہ کیا بلکہ انہی باتوں سے حضرت مسیح پر سخت ناراض ہو (۷۲) گئے اور حضرت مسیح کی نسبت یہ خیال کرنے لگے کہ وہ توریت کی عبارتوں کو اور اور معنے کر کے بگاڑ نا چاہتا ہے کیونکہ انہیں اپنے جسمانی خیال کی وجہ سے پختہ طور پر امید لگی ہوئی تھی چنانچہ (۷۳) ابھی تک وہی خیال خام دل میں ہے کہ سچ مچ ایلیا یہودیوں کی جماعت کے سامنے آسمان سے اُترے گا اور فرشتے اُس کے دائیں بائیں اپنے ہاتھوں کا سہارا دے کر بیت المقدس کی کلام نہیں ہوگی اس لئے خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ آنے والے زمانہ کو بھی اس کی عظمت سے اور مسیحی مشابہت سے متنبہ کرے اس وجہ سے دمشق کا لفظ بطور استعارہ لیا گیا تا پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ آجائے جس میں لخت جگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح کی طرح کمال درجہ کے ظلم اور جور و جفا کی راہ سے دمشقی اشقیا کے محاصرہ میں آکر قتل کئے گئے ۔ سوخدائے تعالیٰ نے اس دمشق کو جس سے ایسے پر ظلم حکام نکلتے تھے اور جس میں ایسے سنگدل اور سیاه درون لوگ پیدا ہو گئے تھے اس غرض سے نشانہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈ کوارٹر ہوگا کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدا تعالی (۷۰) لعنت کی جگہوں کو برکت کے مکانات بناتا رہا ہے اس استعارہ کو خدائے تعالیٰ نے اس لئے اختیار کیا کہ تا پڑھنے والے دو فائدے اس سے حاصل کریں ایک یہ کہ امام مظلوم حسین رضی اللہ عنہ کا دردناک واقعہ شہادت جس کی دمشق کے لفظ میں بطور پیشگوئی اشارہ کی طرز پر حدیث نبوی میں خبر دی گئی ہے اس کی عظمت اور وقعت دلوں پر کھل جائے۔ دوسرے یہ کہ نا یقینی طور پر معلوم کر جاویں کہ جیسے دمشق میں رہنے والے دراصل یہودی نہیں تھے مگر یہودیوں کے کام انہوں نے کئے ایسا ہی جو مسیح اُترنے والا ہے دراصل مسیح نہیں ہے مگر مسیح کی روحانی حالت کا مثیل ہے اور اس جگہ بغیر اس شخص کے کہ جس کے دل میں واقعہ حسین کی وہ عظمت نہ ہو جو ہونی چاہیے ہر یک شخص اے اس دمشقی خصوصیت کو جو ہم نے بیان کی ہے بکمال انشراح ضرور قبول کر لے گا اور نہ صرف قبول بلکہ اس مضمون پر نظر امعان کرنے سے گویا حق الیقین تک پہنچ جائے گا اور حضرت مسیح کو جو امام حسین رضی اللہ عنہ سے تشبیہ دی گئی ہے یہ بھی استعارہ در استعارہ ہے جس کو ہم آگے چل کر بیان کریں گے