ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 128

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۲۸ ازالہ اوہام حصہ اول دو علامات جو مسیح نے استعارہ کے طور پر اپنے آنے کے بیان کئے ہیں اور نیز سورۃ الزلزال کی تفسیر مسیح نے اپنے دوبارہ آنے کا نشان یہ بتلایا ہے کہ اُن دنوں میں تحرت سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہیں دے گا اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے اور آسمان کی قوتیں ہل جائیں گی تب ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور (۵۱) جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے اور وہ نرسنگے کے بڑے شور کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وے اُس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کی اس حد سے اس حد تک جمع کریں گے جب تم یہ سب کچھ دیکھو تو جانو کہ وہ نزدیک بلکہ دروازے پر ہے میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب کچھ ہو نہ لے اس زمانہ کے لوگ گذر نہ جائیں گے آسمان و زمین مل جائے گی پر میری باتیں ہرگز نہ ملیں گی لیکن اُس دن اور اُس گھڑی کو میرے باپ کے سوا آسمان کے فرشتوں تک کوئی نہیں جانتا جیسا نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابن آدم کا آنا بھی ہوگا کیونکہ جس طرح اُن دنوں میں طوفان کے پہلے کھاتے پیتے بیاہ کرتے بیا ہے جاتے تھے اس دن تک کہ نوح کشتی پر چڑھا اور نہ جانتے تھے جب تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو لے گیا اسی طرح ابن آدم کا آنا بھی ہو گا یعنی جس طرح کہ نوح کی کشتی بنانے سے پہلے لوگ امن اور آرام سے بستے تھے کوئی ارضی یا سماوی حادثہ اُن پر وارد نہ (۵۲) تھا اسی طرح ابن آدم یعنی مسیح بھی لوگوں کے آرام اور خوشحالی کے وقت میں آئے گا اُس کے آنے سے پہلے کسی قسم کا حادثہ لوگوں پر نازل نہیں ہوگا بلکہ معمولی طور پر امن اور راحت سے دنیا اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگی دیکھو متی باب ۲۴۔ حضرت مسیح کے اس بیان میں بظاہر صورت جس قدر تناقض ہے ناظرین نے سمجھ لیا ہوگا کیونکہ انہوں نے اپنے اُترنے سے پہلے اس امر کو ضروری ٹھہرایا ہے کہ سورج اندھیرا ہو جائے اور حیا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے آسمان و ز مین ٹل جائیں گے “ہونا چاہیے۔( ناشر )