ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 127

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۲۷ ازالہ اوہام حصہ اول از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ جو لوگ آسمانوں کے وجود کے قائل ہیں وہ البتہ ان کی ۴۸) حرکت کے بھی قائل ہیں اور حرکت بھی دولا بی خیال کرتے ہیں اب اگر فرض کیا جائے کہ حضرت مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ہر وقت اوپر کی سمت میں ہی نہیں رہ سکتے بلکہ کبھی اوپر کی طرف ہوں گے اور کبھی زمین کے نیچے آجائیں گے اس صورت (۴۹) میں اس بات پر وثوق بھی نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ ضرور اوپر کی ہی طرف سے اُتریں گے کیا یہ ممکن نہیں کہ زمین کے نیچے سے ہی نکل آویں کیونکہ در حقیقت اُن کا ٹھکا نہ تو کسی جگہ نہ ہوا اگر صبح آسمان کے اوپر ہوئے تو شام کو زمین کے نیچے۔ پس ایسی مصیبت اُن کے لئے روا رکھنا کس درجہ کی بے ادبی میں داخل ہے۔ از انجملہ ایک یہ اعتراض کہ اگر ہم فرض محال کے طور پر قبول کر لیں کہ حضرت مسیح اپنے جسم خاکی کے سمیت آسمان پر پہنچ گئے تو اس بات کے اقرار سے ہمیں چارہ نہیں کہ وہ جسم جیسا کہ تمام حیوانی و انسانی اجسام کے لئے ضروری ہے آسمان پر بھی تا ؟ آسمان پر بھی تا ثیر زمانہ سے ضرور متاثر ہوگا اور بمرور زمانہ لا بدی اور لازمی طور پر ایک دن ضرور اس کے لئے موت واجب ہو گی پس اس صورت میں اول تو حضرت مسیح کی نسبت یہ مانا پڑتا ہے کہ اپنی عمر کا دورہ پورا کر کے آسمان ہی پر فوت ہو گئے ہوں اور کواکب کی آبادی جو آج کل تسلیم کی جاتی ہے اُسی کے کسی قبرستان میں دفن کئے گئے ہوں اور اگر پھر فرض کے طور پر اب تک زندہ رہنا اُن کا تسلیم کر لیں تو کچھ شک ﴿۵۰﴾ نہیں کہ اتنی مدت کے گزرنے پر پیر فرتوت ہو گئے ہوں گے اور اس کام کے ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کر سکیں پھر ایسی حالت میں اُن کا دنیا میں تشریف لانا بجز ناحق کی تکلیف کے اور کچھ فائدہ بخش معلوم نہیں ہوتا۔