ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 118

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۱۸ ازالہ اوہام حصہ اول اور سچائی سے دور ہوتے ہیں۔ اُن کے رُوبروسچائی کو اُس کی پوری مرارت اور تلخی کے ساتھ ظاہر کرنا اس نتیجہ خیر کا منتج ہوتا ہے کہ اُسی وقت اُن کا مداہنہ دور ہو جاتا ہے اور بالجھر یعنی واشگاف اور علانیہ اپنے کفر اور کینہ کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں گویا اُن کی دق کی بیماری محرقہ کی طرف انتقال کر جاتی ہے۔ سو یہ تحریک جوطبیعتوں میں سخت جوش پیدا کر دیتی ہے اگر چہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے مگر ایک فہیم آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہی تحریک رو بحق کرنے کے لئے پہلا زینہ ہے۔ جب تک ایک مرض کے مواد مخفی ہیں تب تک اس مرض کا کچھ علاج نہیں ہو سکتا لیکن مواد کے ظہور اور بروز کے وقت ہر یک طور کی تدبیر ہو سکتی ہے۔ انبیا نے جو سخت الفاظ استعمال کئے حقیقت میں ان کا مطلب تحریک ہی تھا تا خلق اللہ میں ایک جوش پیدا ہو جائے اور خواب غفلت سے اس ٹھوکر کے ساتھ بیدار ہو جا ئیں اور دین کی طرف خوض اور فکر کی نگاہیں دوڑانا شروع کر دیں اور اس راہ میں حرکت کریں گو وہ مخالفانہ حرکت ہی سہی اور اپنے دلوں کا اہل حق کے دلوں کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر لیں گو وہ عدوانہ تعلق ہی کیوں نہ ہو اسی کی طرف اللہ جلشانہ اشارہ فرماتا ہے فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا یقیناً سمجھنا چاہیے کہ دین اسلام کو بچے دل سے ایک دن وہی لوگ قبول کریں گے جو باعث سخت اور پر زور جگانے والی تحریکوں کے کتب دینیہ کی ورق گردانی میں لگ گئے ہیں اور جوش کے ساتھ اس راہ کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں گو وہ قدم مخالفانہ ۳۲ ہی سہی ۔ ہندوؤں کا وہ پہلا طریق ہمیں بہت مایوس کرنے والا تھا جو اپنے دلوں میں وہ لوگ اس طرز کو زیادہ پسند کے لائق سمجھتے تھے کہ مسلمانوں سے کوئی مذہبی بات چیت نہیں کرنی چاہیے اور ہاں میں ہاں ملا کر گزارہ کر لینا چاہیے لیکن اب وہ مقابلہ پر آکر اور میدان میں کھڑے ہو کر ہمارے تیز ہتھیاروں کے نیچے آپڑے ہیں اور اس صید قریب کی طرح ہو گئے ہیں جس کا ایک ہی ضرب سے کام تمام ہو سکتا ہے اُن کی آہوا نہ سرکشی سے ڈرنا نہیں چاہیے البقرة : 11