ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 112

روحانی خزائن جلد۳ ۱۱۲ ازالہ اوہام حصہ اول کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کے اعتراض کا خود اپنی زبان مبارک سے جواب دیا در حقیقت وہی جواب ہر یک معترض کے ساکت کرنے کے لئے کافی و وافی ہے کیونکہ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گودہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ۲۰ ہے ہر یک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچادیوے پھر اگر وہ سچ کو سن کر ا فر وختہ ہو تو ہوا کرے ہمارے علماء جو اس جگہ لا تَسُبُوا کی آیت پیش کرتے ہیں میں حیران ہوں کہ اس آیت کو ہمارے مقصد اور مدعا سے کیا تعلق ہے۔ اس آیت کریمہ میں تو صرف دشنام دہی سے منع فرمایا گیا ہے نہ یہ کہ اظہا ر حق سے روکا گیا ہوا گر نا دان مخالف حق کی مرارت اور تلخی کو دیکھ کر دشنام دہی کی صورت میں اس کو سمجھ لیوے اور پھر مشتعل ہو کر گالیاں دینی شروع کرے تو کیا اس سے امر معروف کا دروازہ بند کر دینا چاہیے؟ کیا اس قسم کی گالیاں خدائے تعالی نے اس عاجز کے دل پر نازل کی صرف کوئی کوئی فقرہ تشریح کے لئے اس عاجز کی طرف سے ہے اس الہامی عبارت سے بو طالب کی ہمدردی اور دلسوزی ظاہر ہے لکن بکمال یقین یہ بات ثابت ہے کہ یہ ہمدردی پیچھے سے انوار نبوت و آثار استقامت دیکھ کر پیدا ہوئی تھی ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو چالیس برس ہے بیکسی اور پریشانی اور یتیمی میں بسر کیا تھا کسی خویش یا قریب نے اس زمانہ تنہائی میں کوئی حق خویشی اور قرابت کا ادا نہیں کیا تھا یہاں تک کہ وہ روحانی بادشاہ اپنی صغرسنی کی حالت میں لاوارث بچوں کی طرح بعض بیابان نشین اور خانہ بدوش عورتوں کے حوالہ کیا گیا اور اسی بے کسی اور غریبی کی حالت میں اس سید الا نام نے شیر خوارگی کے دن پورے کئے اور جب کچھ سن تمیز پہنچا تو یتیم اور بے کس بچوں کی طرح جن کا دنیا میں کوئی بھی نہیں ہوتا اُن بیابان نشین لوگوں نے بکریاں چرانے کی خدمت اُس مخدوم العالمین کے سپرد کی اور اُس تنگی کے دنوں میں