ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 110
روحانی خزائن جلد ۳ 11+ ازالہ اوہام حصہ اول کنجری کے ساتھ مثال دینا اور یہودیوں کے بزرگ مقتداؤں کو جو قیصری گورنمنٹ میں اعلیٰ درجہ کے عزت دار اور قیصری درباروں میں کرسی نشین تھے ان کر یہ اور نہایت دل آزار اور خلاف تہذیب لفظوں سے یاد کرنا کہ تم حرام زادے ہو حرام کا ر ہو شریر ہو بدذات ہو بے ایمان ہو ا حمق ہو ریا کار ہو شیطان ہو جہنمی ہو تم سانپ ہو سانپوں کے بچے ہو ۔ کیا یہ سب الفاظ معترض کی رائے کے موافق فاش اور گندی گالیاں نہیں ہیں اس سے ظاہر ہے کہ معترض کا اعتراض نہ صرف مجھ پر اور میری کتابوں پر بلکہ در حقیقت معترض نے خدائے تعالیٰ کی ساری کتابوں اور سارے رسولوں پر نہایت درجہ کے جلے سڑے دل کے ساتھ حملہ کیا ہے اور یہ حملہ انجیل پر سب سے زیادہ ہے کیونکہ حضرت مسیح کی سخت زبانی تمام نبیوں سے بڑھی ہوئی ہے اور انجیل سے ثابت ہے کہ اس سخت کلامی کی وجہ سے کئی مرتبہ یہودیوں نے حضرت مسیح کے مارنے کے لئے پتھر اٹھائے اور سردار کاہن کی بے ادبی سے حضرت مسیح نے اپنے منہ پر طمانچے بھی کھائے اور جیسا کہ حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میں صلح کرانے نہیں آیا بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں سو انہوں نے زبان کی تلوار ایسی چلائی کہ کسی نبی کے کلام میں ایسے سخت اور آزاردہ الفاظ نہیں جیسے انجیل میں ہیں اس زبان کی تلوار چلنے سے آخر مسیح کو کیا کچھ آزار اٹھانے پڑے ایسا ہی حضرت یحیی نے بھی یہودیوں کے فقیہوں اور بزرگوں کو سانپوں کے بچے کہہ کر ان کی شرارتوں اور کارسازیوں سے اپنا سر کٹوایا مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ مقدس لوگ پر لہ درجہ کے غیر مہذب تھے کیا زمانہ حال کی موجودہ تہذیب کی ان کو بو بھی نہیں پہنچی تھی ؟ اس سوال کا جواب ہمارے سید و مولی مادر و پدرم بر او فدا باد حضرت ختم المرسلین سید الاولین والآخرین پہلے سے دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں شر البر یہ ہیں سفہاء ہیں اور ذریت شیطان ہیں اور ان کے معبود وقود النار اور حصـب جھنم ہیں تو ابوطالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری