اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 512

اتمام الحجّة — Page 304

روحانی خزائن جلد ۸ ۳۰۴ اتمام الحجة یا شیطانی وسوسہ خیال کرتے ہیں تو رسالہ نور الحق کا جواب میعاد مقررہ میں لکھیں اور اگر نہیں لکھ سکتے تو ہمارا الہام ثابت۔ پھر جن لوگوں نے اپنی نالیاقتی اور بے علمی دکھلا کر ہمارا الہام آپ ہی ثابت کر دیا تو وہ ایک طور سے ہمارے دعوے کو تسلیم کر گئے ۔ پھر مخالفانہ بکو اس قابل سماعت نہیں اور ہماری طرف سے تمام پادریان اور شیخ محمد حسین بطالوی اور مولوی رسل بابا امرتسری اور دوسرے ان کے سب رفقاء اس مقابلہ کے لئے مدعو ہیں اور درخواست مقابلہ کے لئے ہم نے ان سب کو اخیر جون ۱۸۹۴ ء تک مہلت دی ہے اور رسالہ بالمقابل شائع کرنے کے لئے روز درخواست سے تین مہینہ کی مہلت ہے۔ پھر اگر اخیر جون ۱۸۹۴ء تک درخواست نہ کریں تو بعد اُس کے کوئی درخواست سنی نہیں جائے گی اور نادانی ان کی ہمیشہ کے لئے ثابت ہو جائے گی اور مولویت کا لفظ اُن سے ۲۵ چھین لیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ ماہ جون ۱۸۹۴ء کے اندر بالمقابل رسالہ بنانے کے لئے درخواست کر دیں تو تمام درخواست کنندوں کی ایک ہی درخواست سمجھی جائے گی اور صرف پانچ ہزار روپیہ جمع کرا دیا جائے گا نہ زیادہ۔ اور ان میں سے جولوگ رسالہ بالمقابل بنانے میں فتح یاب سمجھے جائیں گے خواہ وہ عیسائی ہوں گے اور یا یہ حق کے مخالف نام کے مولوی اور یا دونوں۔ وہ اس پانچ ہزار روپیہ کو آپس میں تقسیم کر لیں گے اور ان کا اختیار ہو گا کہ سب اکٹھے ہو کر رسالہ بنا دیں غالباً اس طرح سے ان کو آسانی ہوگی مگر آخری نتیجہ ان کے لئے یہی ہوگا کہ خسر الدنيا والآخرة وسواد الوجه في الدارين ۔ اور اگر ہم ان کی اس درخواست کے آنے کے بعد جس پر کم سے کم دس مشہور رئیسوں کی گواہیاں ثبت ہونی چاہئیں اور جوکسی اخبار میں چھاپ کر ہمیں رجسٹری کرا کر پہنچانی چاہیے۔ تین ہفتہ تک کسی بنک میں پانچ ہزار روپیہ جمع نہ کرا دیں تو ہم کا ذب اور ہمار اسب دعویٰ کذب متصور ہوگا کیونکہ زبانی انعام دینے کا دعویٰ کرنا کچھ چیز نہیں ایک کا ذب بدنیت بھی ایسا کر سکتا ہے۔ سچا وہی ہے کہ جو اُس کی زبان سے نکلا اس کو کر دکھاوے۔ ورنہ لعنة الله على الكاذبین لیکن اگر ہم نے روپیہ جمع کرا دیا اور