اتمام الحجّة — Page 295
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۹۵ اتمام الحجة بعض پیش کرنے سے عاجز آگئے اور گریز گاہ باقی نہیں رہا اور کوئی حجت ہاتھ میں نہیں تو نا چار ہو کر کہہ دیتے ہیں کہ اس پر اجماع ہے کسی نے سچ کہا ہے کہ ملا آن باشد کہ بند نشود اگر چه دروغ گوید ۔ یہ حضرات یہ بھی جانتے ہیں کہ خود اجماع کے معنوں میں ہی اختلاف ہے۔ بعض صحابہ تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ بع قرون ثلاثه تک بعض ائمہ اربعہ تک مگر صحابہ اور ائمہ کا حال تو معلوم ہو چکا اور اجماع کے توڑنے کے لئے ایک فرد کا باہر رہنا بھی کافی ہوتا ہے چہ جائے کہ امام مالک رضی اللہ عنہ جیسا عظیم الشان امام جس کے قول کے کروڑہا آدمی تابع ہوں گے حضرت عیسی کی وفات کا صریح قائل ہو۔ اور پھر یہ لوگ کہیں کہ ان کی حیات پر اجماع ہے۔ شرم شرم شرم ۔ اور اجماع کے بارے میں امام احمد رضی اللہ عنہ کا قول نہایت تحقیق اور انصاف پر مبنی ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اجماع کا دعوی کر ہیں کہ جو شخص اجماع کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لئے سچی اور کامل دستاویز قرآن اور حدیث ہی ہے باقی ہمہ پہنچے۔ مگر جو حدیث قرآن کی بینات محکمات کے مخالف ہوگی اور اس کے قصص کے برخلاف کوئی قصہ بیان کرے گی۔ وہ دراصل حدیث نہیں ہوگی کوئی محرف قول ہوگا یا سرے سے موضوع اور جعلی ۔ اور ایسی حدیث بلاشبہ رد کے لائق ہوگی۔ لیکن یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ مسئلہ وفات مسیح میں کسی جگہ حدیث نے قرآن شریف کی مخالفت نہیں کی بلکہ تصدیق کی۔ قرآن میں متوفیک آیا ہے حدیث میں ممیتک آ گیا ہے۔ قرآن میں فلما توفیتنی آیا۔ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی لفظ فلما تو فیتنی بغیر تغییر و تبدیل کے اپنے پر وارد کر کے ظاہر فرما دیا کہ اس کے معنے مارنا ہے نہ اور کچھ اور نبی کی ۱۸ شان سے بعید ہے کہ خدا تعالیٰ کے مرادی معنوں کی تحریف کرے۔ اور ایک آیت قرآن شریف کی جس کے معنے خدا تعالیٰ کے نزدیک زندہ اٹھا لینا ہو اسی کو اپنی طرف منسوب کر کے اس کے معنے مار دینا کر دیوے یہ تو خیانت اور تحریف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس گندی کار روائی کو منسوب کرنا میرے نزدیک اول درجہ کا فسق بلکہ کفر کے قریب قریب ہے۔ افسوس کہ حضرت عیسی کی زندگی ثابت کرنے کے لئے ان خیانت پیشہ مولویوں کی کہاں تک نوبت پہنچی ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی محرف القرآن ٹھہرایا بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنة الله على الخائنين الكاذبين يه بات نہایت سیدھی اور صاف تھی کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت فلما تو فیتنی کو اسی طرح اپنی