اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 512

اتمام الحجّة — Page 294

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۹۴ اتمام الحجة کے کس قسم کے ایمان ہیں کہ نہ قرآن کریم کا فیصلہ ان کی نظر میں کچھ چیز ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہ صحابہ کی تفسیر ۔ یہ کیسا زمانہ آ گیا کہ مولوی کہلا کر اللہ رسول کو چھوڑتے جاتے ہیں۔ اور اگر بہت تنگ کیا جائے اور کہا جائے کہ جس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توفی کے معنے مارنا کر دیئے ہیں تو پھر کیوں آپ لوگ قبول نہیں کرتے تو آخری جواب ان حضرات کا یہ ہے کہ حضرت مسیح کی زندگی پر اجماع ہو چکا ہے پھر ہم کیونکر قبول کر لیں مگر یہ عذر بھی بدتر از گناہ اور نہایت مکروہ چالا کی اور بے ادبی ہے۔ کیونکہ جس اجماع میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل نہیں ہیں بلکہ اس کے صریح مخالف ہیں وہ اجماع کے ساتھ اور کیا حقیقت رکھتا ہے۔ ماسوا اس کے اجماع کا دعوی بھی سراسر جھوٹ اور افترا ہے۔ دیکھو کتاب مجمع بحار الانوار جلد اول صفحہ ۲۸۶ جو اس میں حَكَمًا کے لفظ کی شرح میں لکھا ہے ینزل (ای ینزل عيسى) حكمًا اى حاكما بهذه الشريعة لا نبيا والاكثر ان عيسى لم يمت وقال مالك مات وهو ابن ثلث وثلثين سنة يعنی عیسی ایسی حالت میں نازل ہو گا جو اس شریعت کے مطابق حکم کرے گا نہ نبی ہو کر۔ اور اکثر کا یہ قول ہے کہ عیسی نہیں مرا۔ اور امام مالک نے کہا ہے کہ عیسی مر گیا اور وہ تینتیس برس کا تھا جب فوت ہوا۔ اب دیکھو کہ امام مالک کس شان اور مرتبہ کا امام اور خیر القرون کے زمانہ کا اور کروڑہا آدمی ان کے پیرو ہیں۔ جب انہیں کا یہ مذہب ہوا تو گویا یہ کہنا چاہیئے کہ کروڑ ہا عالم فاضل اور متقی اور اہل ولایت جو بچے پیر و حضرت امام صاحب کے تھے ان کا یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ سچا پیرو اپنے امام کی مخالفت کرے خاص کر ایسے امر میں جو نہ صرف امام کا قول بلکہ خدا کا قول رسول کا قول صحابہ کا قول تابعین کا نتبع تابعین کا قول ہے۔اب ذرہ شرم کرنا چاہیئے کہ جب ایسا عظیم الشان امام جو تمام ائمہ حدیث سے پہلے ظہور پذیر ہوا اور تمام احادیث نبویہ پر گویا ایک دائرہ کی طرح محیط تھا جب اسی کا یہ مذہب ہو تو کس قدر حیا کے برخلاف ہے کہ ایسے مسئلہ میں اجماع کا نام لیں افسوس کہ حضرات مولوی صاحبان عوام کو دھو کہ تو دیتے ہیں مگر بولنے کے وقت یہ خیال نہیں کرتے کہ دنیا تمام اندھی نہیں کتابوں کو دیکھنے والے اور خیانتوں کو ثابت کرنے والے بھی تو اسی قوم میں موجود ہیں۔ یہ نام کے مولوی جب دیکھتے ہیں کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے