اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 512

اتمام الحجّة — Page 292

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۹۲ اتمام الحجة آیت کے معنے حضرت مسیح کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے اور تکلفات اور تحریفات سے کام نہیں لیا۔ ہمیں نہ مولوی رسل بابا صاحب سے کچھ ضد اور عناد ہے نہ کسی اور مولوی صاحب سے۔ اگر وہ یہودیانہ روش پر نہ چلیں اور صیح استدلال سے کام لیں تو پھر ثابت شدہ امر کو قبول نہ کرنا بے ایمانی ہے۔ اگر کوئی تعصبات سے الگ ہو کر اس بات میں فکر کرے کہ حقیقتیں کیونکر ثابت ہوتی ہیں اور ان کے ثبوت کے لئے قاعدہ کیا ہے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ایسا قاعدہ صرف ایک ہی رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ صاف اور صریح اور بدیہی امور کو نظری امور کے ثابت کرنے کے لئے بطور دلائل کے استعمال کیا جائے اور اگر ایسے امر کو بطور دلیل کے پیش کریں کہ وہ خود نظری اور مشتبہ امر ہے جو تکلفات اور تاویلات اور تحریفات سے گھڑا گیا ہے تو اس کو دلیل نہ کہیں گے بلکہ وہ ایک الگ دعوئی ہے جو خود دلیل کا محتاج ہے۔ افسوس کہ ہمارے سادہ لوح مولوی دلیل اور دعوی میں بھی فرق نہیں کر سکتے۔ اور اگر کسی دعوئی پر دلیل طلب کی جائے تو ایک اور دعویٰ پیش کر دیتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ وہ خود محتاج ثبوت ایسا ہی ہے جیسا کہ پہلا دعوئی۔ ہم نے اپنے مخالف الرائے مولوی صاحبوں سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ممات کے بارے میں صرف ایک ہی سوال کیا تھا۔اگر ایمانداری سے اس سوال میں غور کرتے تو ان کی ہدایت کے لئے ایک ہی سوال کافی تھا۔ مگر کسی کو ہدایت پانے کی خواہش ہوتی تو غور بھی کرتا ۔ سوال یہ تھا کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم ۔ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دو جگہ توفی کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی قرآن کریم میں آیا ہے اور ایسا ہی حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا میں بھی (۱۲) یہی لفظ اللہ جل شانہ نے ذکر فرمایا ہے اور کتنے اور مقامات میں بھی موجود ہے۔ اور ان تمام مقامات پر نظر ڈالنے سے ایک منصف مزاج آدمی پورے اطمینان سے سمجھ سکتا ہے کہ توفی کے معنے ہر جگہ قبض روح اور مارنے کے ہیں نہ اور کچھ ۔ کتب حدیث میں بھی یہی محاورہ بھرا ہوا ہے۔ کتب حدیث میں توفی کے لفظ کو صدہا جگہ پاؤ گے مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ بجز مارنے کے کسی اور معنے پر بھی استعمال ہوا ہے ہرگز نہیں۔ بلکہ اگر ایک اُمی آدمی عرب کو کہا جائے کہ تُوُفِّيَ زَيْدٌ تو وہ اس فقرہ سے یہی سمجھے گا کہ زید وفات پا گیا۔ خیر عربوں کا عام محاورہ بھی جانے دو خود آنحضرت