استفتاء — Page 136
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۳۶ استفتاء خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ تمام واقعات اور شہادتیں ہم نے صحیح صحیح لکھ دیئے ہیں اور کتا ہیں جن سے لکھے گئے ہیں مدت سے شائع شدہ ہیں۔ ہر ایک اہل الرائے معزز اگر اصل کتابوں کو دیکھنا چاہے تو ہم سے طلب کر سکتا ہے اس لئے ہم معزز اہل الرائے صاحبوں کی خدمت میں ملتمس ہیں کہ وہ اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کی عظمت اور عزت کیلئے اس فتویٰ کو جو روئداد موجودہ سے پیدا ہوتا ہے کاغذات منسلکہ رسالہ ھذا پر لکھ کر اور اپنی اور دوسروں کی گواہی ان پر ثبت فرما کر گم گشتہ لوگوں پر احسان فرمادیں اور ایسی تحریریں بذریعہ خط ہمارے پاس بھیج دیں کہ وہ سب مجموعہ کے طور پر چھاپ دی جائیں گی اور میں جانتا ہوں کہ اس بارے میں معزز اہل الرائے کی شہادتیں بڑے جوش سے ہر ایک طرف سے آئیں گی اور بچے ایماندار اس گواہی کو جس میں اسلام کی شان ظاہر ہوتی ہے بھی پوشیدہ نہیں کریں گے مگر کمبینہ طبع ذلیل خیال دنیا پرست ۔ سوایسے لوگ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچی گواہی کو چھپائے گا اس کا دل خدا کا گناہ گار ہے۔ جہاں تک میں دیکھتا ہوں سرکاری عہدہ داروں کو بھی کوئی قانون ایسی بچی گواہی سے نہیں روکتا جس میں جائز طور پر سچائی کی مدد ہو۔ انسان میں سچائی کی حمایت بڑی عمدہ صفت ہے۔ ہم کیسی ہی دنیا کی عزت اور وجاہت پاویں خدا کے پنجہ سے باہر نہیں جا سکتے۔ میرا تجربہ ہے کہ اس زبر دست حاکم کا لحاظ نہ رکھنا اور سچی گواہی کو چھپانا اپنے لئے ذلت کی مار خریدنا ہے۔ جو شخص ایسی صاف صاف روئداد کو دیکھ کر پھر سچی گواہی سے پہلو تہی کرے گا اس کی نسبت ہمیں کم سے کم یہ اعتقاد رکھنا پڑے گا کہ یہ شخص خدا اور دین اور رسول مقبول کی حمایت عزت سے لا پرواہ ہے لیکن اگر وہ سچی گواہی دے گا تو ہم احکم الحاکمین کے آگے اس کے دین و دنیا کی مرادوں کے لئے دعا کریں گے اور ہم کیا مانگتے ہیں؟ صرف سچی گواہی مبادا دل آن فرو مایه شاد که از بهر دنیا دهد دین بیاد میرا ارادہ ہے کہ ان باتوں کو انگریزی میں ترجمہ کرا کر یورپ کے اہل النظر لوگوں کے سامنے بھی پیش کروں کیونکہ ان میں فطرنا سچائی کی حمایت کے لئے بڑی جرات پائی جاتی ہے۔ بشرطیکہ ایک سچائی کافی الواقع سچا ہونا سمجھ لیں مگر اول میں اپنے قومی بھائیوں کے سامنے یہ اپیل پیش کرتا ہوں اور ان کو اس مردانہ شہادت کے ادا کرنے کا موقعہ دیتا ہوں جس سے دنیا کے اخیر تک عزت کے ساتھ نیک مردوں کی فہرست میں ان کا نام درج رہے گا۔ الراقم میرزا غلام احمد قادیانی۔ ۱۲ مئی ۱۸۹۷ء