استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 494

استفتاء — Page 132

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۳۲ استفتاء (۲۴) ہوں گی۔ اور وہ الہام یہ ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں ہے میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم۔ فلما تجلّى ربّه لِلجَبَل جعله دیا۔ ان الہامات میں صاف فرما دیا کہ وہ قتل کے منصوبے اس وقت ہوں گے جبکہ ایک چمکدار نشان ظاہر ہوگا۔ اسی وجہ سے ان منصوبوں کا نام اخیر کے الہام میں فتنہ رکھا اور فرمایا کہ اس جگہ ایک فتنہ ہوگا پس اولو العزم نبیوں کی طرح صبر چاہئے ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ آخر وہ فتنہ نا بود ہو جائے گا۔ یہ تین کے فتنے ہیں جن کا براہین میں ذکر ہوا اور یہ تینوں ظہور میں بھی آگئے ۔ چمکدار نشان کا فتنہ صرف زبانی شور و غوغا تک محدود نہیں رہا بلکہ ۱۸ اپریل ۱۸۹۷ء کو ہمارے گھر کی تلاشی بھی ہو گئی تا وہ پیشگوئی پوری ہو جو عیسی کا نام رکھنے میں مخفی تھی۔ اب جیسا کہ براہین احمدیہ کے پڑھنے سے ان تین فتنوں کی خبر ملتی ہے۔ ایسا ہی اگر کوئی ہماری سوانح کا وہ نسخہ پڑھے جو براہین کے وقت سے اس وقت تک مکمل ہوا۔ تب بھی اس کو ماننا پڑتا ہے کہ خارج میں بھی تین ہی فتنے ظہور میں آئے ۔ اس تحقیقات سے نہ صرف وہ پیشگوئی جو لیکھرام کی نسبت کی گئی تھی ان تائیدی ثبوتوں سے مضبوط ہوتی ہے بلکہ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ بھی ایسی کھل جاتی ہے جیسا کہ دن چڑھ جاتا ہے۔ غرض ان تینوں فتنوں پر نظر غور ڈال کر خدا کی قدرت کاملہ کا پتہ لگتا ہے یہ ایک ایسا مقام ہے کہ اس کو یونہی بیہودہ باتوں سے ٹالنا نہیں چاہیے بلکہ پوری توجہ کے ساتھ اس میں غور کرنی چاہیے۔ بلاشبہ ایک طالب حق کی پاک روح اور پاک کانشنس اس مقام سے اطلاع پا کر بہت سے حجابوں سے نجات پاسکتی ہے اور بیشک اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آتھم اور لیکھرام کی نسبت پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی بلکہ کوئی اتفاقی امر تھا تو کیوں کر یہ دونوں پیشگوئیاں آج سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھی گئیں ؟ اس بات سے کوئی منصف کہاں اور کدھر بھاگ سکتا ہے کہ جیسا کہ خارجی واقعات سے تین فتنوں کا نشان ملتا ہے ایسا ہی براہین احمدیہ