استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 494

استفتاء — Page 131

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۳۱ استفتاء اس فتنہ میں صاف لفظ کفر کا موجود ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ کسی مکفر کی طرف سے فتنہ ہوگا۔ کفر پڑھنا بھی جائز ہے جس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہمارے ایمان سے منکر ۔ دونوں لفظوں کا مال ایک ہی ہے۔ غرض یہ لفظ کفر باب تفعیل سے ہے اور برعایت معنی مذکور ثلاثی مجر بھی ہوسکتا ہے۔ الہام دونوں طور پر ہے اور بعد کا یہ فقرہ کہ اس کو نہیں چاہیے تھا جو اس فتنہ تکفیر میں دخل دیتا۔ یہ فقرہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شخص علم و فضیلت کا دعویٰ رکھتا ہو گا یعنی مولوی کہلائے گا ۔ پس جس شان کا اس کو دعوی تھا۔ اس سے بہت بعید تھا کہ ایسا فاسقانہ کام کرتا۔ غرض یہ دوسرا فتنہ ہے جو دوسرے درجہ پر ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں نہایت صاف شرح سے مندرج ہے۔ تیسرا فتنہ۔ چمکدار نشان کا فتنہ ہے جو براہین کے صفحہ (۵۵۶ ) و (۵۵۷) میں کمال صفائی لکھا ہوا ہے وہ یہ ہے۔ یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی و جاعل الذين اتبعوك فوق الذين فروا الى يوم القيامة۔ ثلة من الاولين و ثلة من الأخرين ۔ ترجمہ یعنی اے عیسی میں تجھ کو طبعی موت سے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعین کو ان لوگوں پر قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ جو تیرے منکر ہیں اور تابعین کا ایک گروہ پہلا ہوگا اور ایک گروہ بعد میں ہو جائے گا۔ یہ خدا کا تسلمی آمیز کلام اس وقت حضرت عیسیٰ پر اترا تھا جبکہ وہ نہایت گھبراہٹ میں تھے اور ان کو ایسی موت کی دھمکی دی گئی تھی جو جرائم پیشہ لوگوں کے لئے خاص ہے یعنی صلیب کی دھمکی جو عنتی موت ہے اور یہی الہام اور یہی وعدہ اس عاجز کو ہوا جس سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہی ابتلا اس عاجز کو پیش آئے گا اور یہی انجام ہوگا ۔ اسی بنا پر اس عاجز کا نام عیسی رکھا گیا اور وعدہ دیا گیا کہ میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور عزت کے ساتھ اٹھاؤں گا۔ غرض اس الہام کے اندر یہ خفی پیشگوئی ہے کہ حضرت عیسی کی طرح اس عاجز کے دشمن بھی قتل کرنے کے لئے منصوبے کریں گے اور جرائم پیشہ کی موت یعنی پھانسی کے لئے تدبیریں عمل میں لائیں گے مگر ان ارادوں کی تکمیل میں ناکام رہیں گے۔ غرض عیسی کا نام اس عاجز پر اطلاق کرنے سے اس وجہ تسمیہ کی طرف اشارہ ہوا کہ اسی طور پر جیسا کہ حضرت عیسی کی اس موت کے لئے جو جرائم پیشہ کی موتیں ہوتی ہیں تجویزیں اور تدبیریں کی گئیں اس جگہ بھی ایسا ہی وقوع میں آئے گا۔ پھر آگے دوسرے الہامات میں جو اس کے بعد ہیں جن میں صریح اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ کب اور کس وقت ہوگا اور اس قسم کے ارادے اور قتل کے منصوبے کس زمانہ میں ہوں گے اور اس سے پہلے کیا علامتیں ظاہر