استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 494

استفتاء — Page 126

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۲۶ استفتاء (۱۸) ہو اور وہ سچا ہو جائے پس یا د ر کھنے سے مدعا یہ تھا کہ جب پیشگوئی خطا جائے گی یا عید پر پوری نہیں ہوگی تو جنسی ٹھٹھے میں اڑائیں گے لیکن جب خدا نے اسی طرح پیشگوئی کو پورا کر دیا جیسا کہ لکھا گیا تھا تب ہندوؤں نے فی الفور اپنا پہلو بدل لیا اور کہا کہ عید پر قتل کرنے کے لئے پہلے سے سازش ہو چکی تھی ورنہ خدا کی عادت ایسی نہیں ہے جو باریک اور خاص نشانوں کے ساتھ غیب کی خبریں کسی کو بتلاوے، مگر وہ قادر خدا جو سچائی کو مشتبہ کرنا نہیں چاہتا اس نے اس خیال کو بھی پہلے سے رو کر رکھا تھا جس کی ہندوؤں کو خبر نہیں تھی یعنی اس نے لیکھرام کے واقعہ قتل سے سترہ برس پہلے اس نشان کی براہین احمدیہ میں خبر دی ہے اور یہ خبر اس وقت لکھی گئی اور شائع کی گئی تھی جبکہ لیکھرام بار و یا تیرہ برس کا ہوگا اور یہ ایسے مرتب اور سلسلہ وار طرز پر براہین احمدیہ میں موجود ہے کہ انسان کو بجز ماننے کے بن نہیں پڑتا۔ ہم بفضلہ تعالیٰ رسالہ سراج منیر میں اس کو لکھ چکے ہیں اور مختصر طور پر اس کا یہ بیان ہے کہ براہین احمدیہ کے الہامات میں میری نسبت تین فتنوں کی خبر دی گئی ہے یعنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ تین موقعہ پر تین فتنے تم پر بر پا ہوں گے۔ اب قبل اس کے جو ان تینوں فتنوں کا ذکر کیا جائے صفائی بیان کے لئے اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہر ایک تکذیب فتنہ کے نام سے موسوم نہیں ہو سکتی بلکہ صرف اس حالت میں کسی تکذیب کو فتنہ کے نام سے موسوم کیا جائے گا جبکہ وہ تکذیب ایک بلوہ کے رنگ میں ہو اور ایک جماعت با ہمی اتفاق کر کے کسی کے مال یا جان یا عزت کی نقصان رسانی کی غرض سے اپنی طاقتوں کو اس حد تک خرچ کریں جہاں تک ایک شخص پورے اشتعال کی حالت میں کر سکتا ہے پس فتنہ میں ضروری ہے کہ ایک جماعت ہو اور وہ جماعت کسی کی ضرر رسانی کے ارادہ کے لئے پورے جوش کے ساتھ باہم اتفاق کر لیوے اور ایک بلوہ کی صورت میں ایک خطرناک مجمع بنا کر کسی کی عزت یا جان یا مال پر حملہ کرنے کیلئے مستعد ہو جائیں اور باہمی مشورہ سے ان تمام فریبوں کو اپنی طبیعتوں کے افروختہ ہونے کی حالت میں ایک غیر معمولی جوش کی طرز پر استعمال میں لاویں جس کے استعمال سے فریق مخالف پر کوئی نا گہانی آفت آنے کا اندیشہ ہو۔ اب جبکہ فتنہ کے لفظ کی تعریف معلوم ہو چکی تو ان تین فتنوں کو بیان کرتا ہوں مگر شاید سمجھانے کے لئے یہ انسب ہوگا کہ قبل اس کے جو میں ان تین فتنوں کی تفصیل براہین احمدیہ کے صفحات سے پیش کروں ۔ اول وہ تینوں فتنے بیان کر دوں جو براہین احمدیہ کی تالیف اور شائع ہونے کے بعد میرے پر گذر چکے ہیں جن کے واقعات سے لکھو کھبا انسان گواہ ہیں بلکہ اگر میں کروڑ ہا کہوں تو یقینا مبالغہ نہ ہوگا اس وقت میں اس دعوئی پر زور دینے کے بغیر رہ نہیں سکتا کہ میری زندگی کا وہ بڑا حصہ جو براہین کی تالیف کے بعد اس