استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 494

استفتاء — Page 125

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۲۵ استفتاء کر کے آئندہ آزمائش کے بعد اپنی غلط رائے کے چھوڑنے کے لئے توفیق ملے اور رسالہ برکات الدعا جب ۱۷ تالیف کیا گیا تو اُسی زمانہ میں سید صاحب کی خدمت میں بلا تو قف بھیجا گیا اور سید صاحب کا جواب بھی آگیا تھا کہ میں برکات الدعا کو دیکھ رہا ہوں پس ضرور سید صاحب نے ان مقامات کو بھی دیکھا ہو گا جن میں نمونہ دعائے مستجاب پیش کیا گیا تھا۔ غرض لیکھرام کی موت کے لئے دعا کرنا اگر چہ بوجہ اس کی بدزبانی اور بے باکی کے تھا لیکن یہ بھی مطلوب تھا کہ سید صاحب کی خدمت میں ایک نمونہ دعائے مستجاب پیش کیا جائے۔ اب سید صاحب کا فرض ہے کہ اپنی اس ناقص رائے کو بدل دیں۔ ایسا نہ ہو کہ ایک شخص نے کی تو جان گئی اور سید صاحب وہیں کے وہیں رہے۔ یہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو لیکھرام کی موت کے بارے میں ۱۸۹۳ء میں عام طور پر شائع کی گئی تھیں اور جو شخص ان پر غور کرے گا اس کو ماننا پڑے گا کہ ان پیشگوئیوں میں قطعی طور پر ابتدائے ۲۰ فروری ۱۸۹۳ سے نامبردہ کی موت کے لئے چھ برس کی میعاد بتلائی گئی تھی اور کشفی واقعہ یہ بھی ظاہر کر رہا تھا کہ لیکھرام کی موت اتوار کے دن کو ہوگی کیونکہ وہ فرشتہ جو لیکھرام کی سزا کے لئے آیا اتوار کی رات کو مجھ پر ظاہر ہوا تھا جس سے پایا جاتا تھا کہ لیکھرام کی موت کا دن اتوار کا دن ہوگا اور الہام میں یہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ عید کے ساتھ کے دن میں یعنی دوسری شوال میں یہ واقعہ پیش آئے گا اور خدا کی قدرت ہے کہ عید کا پتہ پہلے سے ہندوؤں نے خوب یاد کر رکھا تھا مگر اس وقت یہ امر غیر ممکن سمجھ کر صرف تکذیب کی غرض سے یاد کر لیا تھا۔ کیوں کہ وہ اپنی جہالت سے خیال کرتے تھے کہ ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں کہ پیشگوئی میں ایسا خاص نشان لیکھرام کے متعلق ایک یہ پیشگوئی تھی کہ یقضی امرہ فی ست یعنی چھ میں اس کا کام تمام کیا جائے گا۔ اب تک مجھے معلوم نہیں کہ یہ پیشگوئی ہمارے کسی اشتہار یا کتاب میں یا ہمارے کسی دوست کی تالیف میں چھپ گئی یا نہیں لیکن ہماری جماعت میں اس کی عام شہرت ہے اور یقین ہے کہ دوسروں تک بھی یہ پیشگوئی پہنچی ہوگی جیسا کہ آریوں میں عید کی پیشگوئی پہنچ گئی کیوں کہ ہماری کوئی بات راز کے طور پر نہیں رہتی۔ اس پیشگوئی کا جیسا کہ مفہوم ہے ایسا ہی ظہور میں آیا یعنی لیکھرام چھ مارچ کو زخمی ہوا اور دن کے چھٹے گھنٹے میں زخمی ہوا۔ بٹالوی صاحب اگر اس زبانی روایت سے انکار کرتے ہیں تو حدیثوں کے قبول کرنے میں انہیں بڑی مشکل پڑے گی کیونکہ وہ نہ صرف زبانی روایتیں ہیں بلکہ کم سے کم سوڈیڑھ سو برس بعد میں لکھی گئیں ۔ جو بات تازہ ہو اور جس کے دیکھنے اور سننے والے زندہ موجود ہیں اس سے انکار کرنا عقلمندوں کے نزدیک رسوا ہونا ہے۔ منہ