استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 494

استفتاء — Page 118

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۱۸ استفتاء (10) میرے حق میں جو چا ہو شائع کرو۔ میری طرف سے اجازت ہے اور میں کچھ خوف نہیں کرتا ۔ اس پر بھی ہماری طرف سے بڑی توقف ہوئی اور نیز یہ باعث ہوا کہ ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر پیشگوئی کی میعاد نہیں کھلی تھی اور لیکھرام کا اصرار تھا کہ میعاد کی قید سے پیشگوئی بتلائی جائے ۔ آخر ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو بہت توجہ اور دعا اور تضرع کے بعد معلوم ہوا کہ آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ء سے چھ برس کے درمیان لیکھرام پر عذاب شدید جس کا نتیجہ موت ہے نازل کیا جائے گا اور اس کے ساتھ یہ عربی الہام بھی ہوا عجل جَسَدٌ له خوار - له نصب و عذاب یعنی یہ گوسالہ بے جان ہے جس میں سے مہمل آواز آ رہی ہے۔ پس اس کے لئے دکھ کی مار اور عذاب ہے اور اس اشتہار کے صفحہ ۲ اور تین میں یہ عبارت ہے۔ اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ تیک آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے کوئی ایسا عذاب جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت ہو ( یعنی جو عوارض اور بیماریاں انسان کے لئے طبعی اور معمولی ہیں جن سے انسان کبھی صحت پا تا اور کبھی مرتا ہے ان میں سے نہ ہو ) اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو ( یعنی الہی قہر کے نشان اس میں موجود ہوں ) نازل نہ ہوتو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے ( یعنی میرے صدق اور کذب کا مدار یہی پیشگوئی ہے ) اور اگر میں اس پیشگوئی میں کا ذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کیلئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر سولی پر کھینچا جائے ۔ ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء اس جگہ منصف سوچیں کہ در صورت دروغ نکلنے اس پیشگوئی کے کس ذلت کے اٹھانے کے لئے میں طیار تھا اور اپنے صدق اور کذب کا کس درجہ پر اس پیشگوئی پر حصر کیا گیا تھا۔ پھر وہ لوگ جو خدا کی ہستی کو مانتے اور اس بات کو جانتے ہیں کہ اس کے ارادہ کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے اور ہر ایک جھگڑے کا آخری فیصلہ اس کے ہاتھ سے ہوتا ہے وہ کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ ایسا عظیم الشان مقدمہ جس کے نتیجہ کی دو بڑی بھاری قومیں منتظر تھیں وہ خدا کے علم اور ارادہ کے بغیر یونہی اتفاقی طور پر ظہور میں آ گیا گویا جو مقدمہ خدا کو سونپا گیا تھا۔ وہ بغیر اس کے جو اس کے فیصلہ کرنے والے فرمان سے مزین ہو یونہی اس کی لاعلمی میں داخل دفتر ہو گیا۔ اگر ایسے خیالات بھروسہ کرنے کے لائق ہیں تو پھر تمام نبوتوں کا سلسلہ اور شریعتوں کا تمام نظام ایک دفعہ درہم برہم ہو جائے گا کیوں کہ جو امر تحدی کے بعد اور اس قدر اصرار کے دعوئی سے پیچھے دشمن کے مقابل آسمانی گواہی کے طور پر ظہور میں آگیا اور نہایت روشن طور پر مقرر کردہ علامتوں کے موافق اس کا ظہور ہوا۔ اگر وہی بیہودہ اور باطل سمجھا جائے تو پھر کہاں کا مذہب اور کہاں کی خدا کی ہستی بلکہ تمام آسمانی سچائیوں کا