عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 727 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 727

۔اگر تو اُس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے تو اُس کا عاشق بن جا کیونکہ محمدؐ ہی خود محمد کی دلیل ہے۔میرا سر احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پا پر نثار ہے اور میرا دل ہر وقت محمدؐ پر قربان رہتا ہے۔رسول اللہ کی زلفوں کی قسم کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نورانی چہرے پر فدا ہوں۔اس راہ میں اگر مجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جاوے تو پھر بھی میں محمدؐ کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا۔دین کے معاملہ میں مَیں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کہ مجھ میں محمدؐ کے ایمان کا رنگ ہے۔دنیا سے قطع تعلق کرنا نہایت آسان ہے محمدؐ کے حسن واحسان کو یاد کر کے۔اُس کی راہ میں میرا ہر ذرّہ قربان ہے کیونکہ میں نے محمدؐ کا مخفی حسن دیکھ لیا ہے۔میں اور کسی استاد کا نام نہیں جانتا میں تو صرف محمدؐ کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہوں۔اور کسی محبوب سے مجھے واسطہ نہیں کہ میں تو محمدؐ کے نازو ادا کا مقتول ہوں۔مجھے تو اسی آنکھ کی نظرِ مہر درکار ہے۔میں محمدؐ کے باغ کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔میرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمدؐ کے دامن سے باندھ دیا ہے۔میں طائرانِ ُقدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمدؐ کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے۔تو نے عشق کی وجہ سے ہماری جان کو روشن کر دیا اے محمدؐ تجھ پر میری جان فدا ہو۔اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تو بھی افسوس رہے گا کہ یہ محمدؐ کی شان کے شایاں نہیں۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمدؐ کے میدان میں کوئی بھی) مقابلہ پر(نہیں آتا۔خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمدؐ کے آل اور انصار میں ڈھونڈ صفحہ ۵۵۳۔اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جااور محمدؐ کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔خبردار ہو جا ! اے وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نیز محمدؐ کے چمکتے ہوئے نور کا منکر ہے۔اگرچہ کرامت اب مفقود ہے۔مگر تو آ اور اسے محمدؐ کے غلاموں میں دیکھ لے صفحہ ۵۵۹۔دلبر کا چہرہ طالبوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔وہ سورج میں بھی چمکتا ہے اور چاند میں بھی