عصمتِ انبیاءؑ — Page 726
۔تیری بیوی خون کے آنسوؤں سے روتی ہو گی اور بیٹا دیوار کے پیچھے گریہ وزاری کر رہا ہو گا۔لڑکی ننگے سر آنسو بہاتی ہو گی اور سب رشتہ دار ُمردہ کی مانند ہوں گے۔کہ یکدم یہ دردناک آواز آئے گی۔کہ فلاں شخص اِس دنیا سے گزر گیا۔چند بچوں کو یتیم چھوڑ گیا اور بچاری بیوہ سینکڑوں دکھ اٹھانے کے لئے رہ گئی۔دنیا کی زندگی کا یہ انجام ہے۔اگر تجھے خبر نہیں تو کسی عقلمند سے ہی پوچھ لے۔اے نادان تیرا قدم قبر کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ہوش کر کہ تیرا انجام ُبرا نہ ہو۔یہ جہان ُمردار کی طرح ہے اور ہر جانب اِس کے طالب کتوں کی طرح کھڑے ہیں۔وہ شخص آزاد ہو گیا جس نے اِس ُمردار سے رہائی پائی اور وہ خاک ہو گیا تا کہ دوست راضی ہو جائے۔خدا کا ُلطف اپنے طالبوں کے شامل حال رہتا ہے اُس کی راہ میں کوئی بھی نقصان نہیں اٹھاتا۔جو اپنی ہستی سے جدا ہو گیاخدا اُسے اپنے ہاں بلا لیتا ہے یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے اگر کسی کی سمجھ میں آجائے صفحہ ۵۰۹۔اب تو اپنی غلطی پر ہزاروں عذر پیش کرے لیکن شادی شدہ عورت کے لئے کنوار پن کا دعویٰ زیب نہیں دیتا صفحہ ۵۵۱۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان میں ایک عجیب نور ہے محمدؐ کی کان میں ایک عجیب وغریب لعل ہے۔دل اُس وقت ظلمتوں سے پاک ہوتا ہے جب وہ محمدؐ کے دوستوں میں داخل ہو جاتا ہے۔میں اُن نالایقوں کے دلوں پر تعجب کرتا ہوں جو محمدؐ کے دستر خوان سے منہ پھیرتے ہیں صفحہ ۵۵۲۔دونوں جہان میں مَیں کسی شخص کو نہیں جانتاجو محمدؐ کی سی شان وشوکت رکھتا ہو۔خدا اُس شخص سے سخت بیزار ہے جو محمدؐ سے کینہ رکھتا ہو۔خدا خود اس ذلیل کیڑے کو جلا دیتا ہے جو محمدؐ کے دشمنوں میں سے ہو۔اگر تو نفس کی بد مستیوں سے نجات چاہتا ہے تو محمدؐ کے مستانوں میں سے ہو جا۔اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تیری تعریف کرے تو تہ دل سے محمدؐ کا مدح خواں بن جا