عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 725 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 725

۔نہ سر کا ہوش نہ پیر کی خبر۔محبوب کے خیال میں ان کا سر خاک پر ہے۔ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے مگر عاشقوں کا کام صرف محبوب کے ساتھ ہے۔اُن کا جہان ایک اور ہی جہان ہے اور اُن کا عالم غیر اللہ سے دور ہے۔وہ سوئے ہوئے ہیں اگرچہ تیری نظر میں بیدار ہیں۔خدا کے سوا کوئی ان کا محرم اسرار نہیں ہے۔مذمت اور تحسین کے خیال سے بے پروا ہیں۔نہ انہیں تعریف کی خبر ہے نہ لعنت کی۔جو شخص خدا کی ذات سے تعلق رکھتا ہے وہ اور وں کی طرف سے پیٹھ پھیر لیتا ہے۔جو شخص اس کے دروازہ کو صدق اور اخلاص سے اختیار کرتا ہے اس کے دروازہ اور چھت سے نور برسنے لگتا ہے۔اُس کی پیشانی سے چاند کی طرح نور چمکتا ہے اور عشق الٰہی سے سارا چہرہ روشن ہو جاتا ہے۔اُس دوست کا عشق اس کا مدعا بن گیا ہے اور غیر اللہ سے اس کا دل جدا ہو گیا ہے۔خدا کا لطف ہمیشہ اپنے طالبوں کے شامل حال رہتا ہے اُس کی راہ میں کوئی نقصان نہیں اٹھاتا۔جس نے وہ دروازہ اختیار کر لیا اُس کا کام بن گیا اور اُس کے کاروبار کی کامیابی پر سینکڑوں امیدیں بندھ گئیں۔تو نے اُس محبوب کی طرح کا کوئی اور محبوب کہاں دیکھا ہے پھر کیوں اُس کی جدائی کو پسند کر لیا۔بہتر ہے کہ فوراً تو اس کا راستہ اختیار کرے۔ایسا نہ ہو کہ اس سے پہلے ہی مر جائے۔اپنی پہلی عمر کو دیکھ کہ کدھر چلی گئی، وہ تو ضائع ہو گئی مگر دیکھ تیرے پاس سے کیا کیا چلا گیا۔عمر کا ایک حصہ تو بچپن میں چلا گیااور ایک حصہ عمر کا تو نے سر کشی میں گزارا۔اچھا حصہ تو گزرگیا۔اب بچا کھچا رہ گیا ہے۔دشمن خوش ہیں اور دوست ناراض۔اس جہانِ فانی کی حالت پر کان رکھ۔کس طرح وہ زبان حال سے بیان کر رہا ہے۔کہ یہ دنیا کسی سے وفا نہیں کرتی اور صبر نہیں کرتی جب تک اسے اپنے سے جدا نہیں کر لیتی۔اگر تیرے کان ہوں تو سو آہیں سنے۔خود اپنے ُمردہ اور تباہ حال دل سے۔کہ میں نے خدا سے کیوں منہ پھیرا۔اور ایسی چیز سے کیوں دل لگایا جو جدا ہو گئی۔اسی طرح تجھے بھی ایک ایسی گھڑی پیش آنے والی ہے۔قبر تجھے اپنے عزیزوں کی طرح بلا رہی ہے۔کوچ کے وقت اور دنیا کے چھوڑنے کی گھڑی کو یاد کرکہ تو جان بلب ہو گا اور گھر میں آہ وفغاں کا شور برپا ہو گا