عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 724 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 724

۔اس درد وغم سے اپنے دل کو زخمی کر۔دل تو کیا اپنی جان بھی قربان کر دے۔تجھے تو اسی خدائے یگانہ سے ہی کام پڑے گا۔افسوس پھر تو اس خدا سے کیوں کر صبر کر سکتا ہے۔جب تو خدا سے روگردانی کرے گا تو تیری قسمت بگڑ جائے گی اور عاجزی کے ساتھ اس کی طرف آنے میں دولت ملے گی۔اے وہ شخص جس نے خواہشوں کی رسی لمبی کر دی ہے تو ان لالچوں سے کیوں باز نہیں آتا۔عمر کی دولت دمبدم کمی پر ہے اور تو زرو مال کی فکر میں پریشان ہو رہا ہے۔رشتہ دار، قوم اور قبیلہ سب وجہ ابتلاء ہیں لیکن تو نے ان کی خاطر خدا سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ان سب کا ارادہ تیرے قتل کرنے کا ہے۔کبھی یہ صلح کر کے تجھے قتل کرتے ہیں کبھی جنگ کر کے۔آخر اُسی خدا سے تیرا واسطہ پڑے گا۔نہ تو ُتو کسی کا دوست ہے نہ کوئی تیرا دوست۔جو شخص ایک معشوق رکھتا ہے اُسے بغیر اُس کے وصل کے آرام نہیں آتا۔اور جب تک اُسے نہیں دیکھ لیتا اُسے صبر نہیں آتاعشق کا سیلاب اسے بہائے لئے جاتا ہے۔عاشقوں کے دل کو کہاں قرار ہے دوست کے منہ سے روگردانی کس طرح ممکن ہے۔محبوب کے حسن نے اُن کے دل کے کانوں میں وہ راز پھونک دیا ہے جس کا اظہار ناممکن ہے۔یہ لوگ کامیاب ہیں مگر اس جہان سے نامراد۔یہ لوگ عقلمند ہیں جو جال سے اڑ کر دور چلے گئے ہیں۔وہ اپنی خودی اور نفسانیت سے آزاد ہو گئے اور انوارِ الٰہی کے فیضان کے نزول کی جگہ بن گئے۔انہوں نے اپنے خدا سے دل لگالیا اور غیر اللہ سے اپنا دل توڑ لیا۔غیر کے دخل سے ان کے دل کا خانہ پاک ہے اور دوست نے ان کے جان ودل میں گھر بنا لیا ہے۔اُن کے (ننگ وناموس) کا شیشہ چکنا چور ہو گیا۔دلبر کی خوشبو اُن کے سینہ میں سے مہک رہی ہے۔یار کی تجلّی نے اُن کے نقشِ ہستی کو دھو ڈالا اور اُن کے دل کے گریبان سے یار نمودار ہو گیا صفحہ ۴۸۵۔وہ فانی ہیں مگر خدائے واحد سے بھرے ہوئے وہ پاک ہیں اور خدائے مجید کے رنگ میں رنگین۔خدا کی ذات علیحدہ ہے اور انسان کی علیحدہ مگر یہ لوگ تو گویا خدا کے اندر چھپ گئے ہیں