عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 713 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 713

۔اگر تو اس سیدھے رستے کے سوار کو ڈھونڈتا ہے تو وہاں ڈھونڈ جہاں سے گرد اٹھی ہے۔وہاں ڈھونڈ جہاں زور باقی نہیں رہا خودنمائی تکبر اور جوش نہیں رہا۔وہاں ڈھونڈ جہاں موت آگئی ہے جب خزاں چلی جاتی ہے تو پھل اور پتوں کا موسم آتا ہے۔دنیا دار باخدا لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے باتیں بنانے والے جان دینے والوں کے برابر نہیں ہو سکتے۔زبانی دعوے ُمردار کی طرح ہوتے ہیں کتوں کے سوا کوئی ان کو نہیں ڈھونڈتا۔جب کسی دل میں وہ گلزار پیدا ہو جاتا ہے۔تو ہزاروں صاحب دل اس کے بلبل بن جاتے ہیں۔مگر یہ قبولیت بھی خدا ہی کی طرف سے آتی ہے۔فریب اور افترا سے نہیں آتی۔وہ چادر جس کے اندر خدا ہو۔سینکڑوں عزت دار انسان اس پر قربان ہوتے ہیں۔اور اگر کپڑے کے نیچے شیطان ہو تو جلدی ہی تو اُسے تباہ اور ویران ہوتے دیکھ لے گا۔اگر تو خدائے واحد کے بندوں سے بخل اور حسد کرتا ہے تو ُتو زہر کھاتا ہے۔جب تک تو فنا نہیں ہوتا تب تک ُمردار سے بھی بدتر ہے اور خدا کی رحمت سے دور ہے۔جب تک تیرا سر عاجزی کے ساتھ نیچا نہ ہو گا تب تک تیرے نفس کے سامنے سے پردہ نہ ہٹے گا۔جب تک تیرے سب بال وپر نہ جھڑ جائیں گے تب تک اس راہ میں تیرا اڑنا محال ہے۔دلبر کے چہرہ پر تو کوئی پردہ نہیں ہے مگر تو اپنے آگے سے خودی کا پردہ اٹھا۔جسے لازوال دولت مل جاتی ہے اُس کا کام ہر بات میں عجز وانکسار ہوتا ہے۔اُن خوش قسمتوں نے اُس کے چہرہ کو دیکھ لیا جنہوں نے اُس کی راہ میں مصیبتیں اٹھائیں۔اُس بادشاہ کے لئے انہوں نے اپنی عزت قربان کر دی دل ہاتھ سے گیا اور ٹوپی سر سے اُتری۔اگر وہ محبوب کی طرف رستہ نہیں پاتے تو اس کے غم میں اپنی جان زیر وزبر کر دیتے ہیں۔انہوں نے اپنی ہستی کی بنیاد اکھیڑ دی یہاں تک کہ فرشتے بھی اُن کی وفاداری پر حیران ہیں۔چونکہ دل کو دل کی طرف راہ ہوتی ہے۔پس یار اپنے یار کو کیونکر چھوڑ دے۔پس ضرور ایسا وفادار اُس دوست کے ہاتھ سے عزت کا جام پیتا ہے۔ایک جہان دیوانوں کی طرح اٹھ کھڑا ہوتا ہے تا کہ ذرا سی دیر میں اس کا کام تمام کر دے