عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 700 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 700

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۶ عصمت انبياء عليهم السلام اس جرگہ سے روز روشن میں صاف نکل گئے اور کوئی آپ کو دیکھ نہ سکا لیکن حضرت مسیح کی درد ناک دعا ایلی ایلی لما سبقتانی جس پر اب تک یہودی ہنسی ٹھٹھا مارتے ہیں ایسی نا مقبول ہوئی کہ باقرار عیسائیاں اس دعا کے بعد نتیجہ یہی نکلا کہ مصلوب ہو گئے۔ یہ تو حضرت مسیح کی ذات کے ساتھ خدا تعالیٰ کے معاملات تھے پھر حواریوں کے حالات بھی ایسے ہی ہیں ان کو وعدہ دیا گیا تھا کہ ابھی تم زندہ ہو گے کہ میں واپس آؤں گا اب دیکھو یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے جھوٹ نکلی اور دو ہزار برس ہونے لگے آنے کا نام و نشان نہیں وہ تمام انتظار کرنے والے ایسی حالتوں میں مرے کہ ہمیشہ یہود اُن سے ٹھٹھا کرتے رہے کہ تمہارا استاد کہاں دوبارہ آیا اور وہ ہمیشہ اس سوال سے شرمندہ رہے اور کوئی جواب نہ دے سکے ان کو بارہ تختوں کا وعدہ دیا گیا تھا مگر خود حضرت مسیح کی زندگی میں ایک حواری مرتد ہو گیا اور دوسرے نے بھی مرتدوں کا سا کام کیا اور اس حساب سے تخت صرف دس رہ گئے حالانکہ پیشگوئی میں بارہ کا وعدہ تھا۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں تختوں پر بیٹھنے کا اپنے اصحاب کو وعدہ دیا تھا۔ سو ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ وہ وعدہ سچا ہو گیا۔ غرض حضرت مسیح کی تعلیم میں ان الفاظ سے جن سے ان کو خدا بنایا جاتا ہے کوئی نادر اور عجیب لفظ نہیں اس لئے کہ اور نبیوں کی شان میں بھی اس قسم کے الفاظ بہت آئے ہیں آدم کو بھی خدا کا فرزند کہا گیا ہے اور اسرائیل کو بھی خدا کا فرزند کہا گیا بلکہ ایک جگہ لکھا ہے کہ تم سب خدا ہو مگر کیا ایسے لفظوں سے یہ نتیجہ نکال لینا چاہئے کہ جن لوگوں کے حق میں ایسے الفاظ استعمال پائے ہیں وہ درحقیقت خدا ہیں ۳۰۷ یا خدا کے بیٹے ہیں حضرت مسیح نے بھی تو ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ مسیح موعود کا ظہور غرض بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کے معاملہ میں ناحق ایک تنکے کا پہاڑ بنایا گیا ہے دیکھو میں بھی خدا سے الہام پاتا ہوں اور بیس برس سے زیادہ عرصہ سے