عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 695 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 695

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۱ عصمت انبياء عليهم السلام یسوع ابن مریم کو بھی خدا بنایا گیا یعنی اول شریر یہودیوں نے حضرت مسیح کی ولادت کو نا جائز قرار دیا اور حضرت مریم کو آلودہ دامنی کا الزام لگایا اور پھر حضرت مسیح کے چال چلن پر بہت افترا کیا چنانچہ چند فاضل یہودیوں کی کتابیں جو اس وقت ہمارے مطالعہ میں ہیں ان کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح کی زندگی کا بہت ہی بُرا نقشہ کھینچا ہے یہ کتابیں حلقہ کتا ہیں ان فاضل یہودیوں کی ان دنوں میں شام کے وقت ہمارے حلقہ میں محض اس غرض سے پڑھی جاتی ہیں کہ تا ہماری جماعت کو اس بات کا علم ہو جائے کہ آج کل بعض نادان پادری جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی پر افترا اور بہتان کے طور پر حملے کرتے ہیں ان سے بدتر حملے حضرت مسیح کی زندگی پر کئے گئے ہیں یہاں تک کہ بعض ایسے حملے ہیں جن کے لکھنے سے بھی شرم اور حیا مانع ہے اُن کی ماں پر نہایت ناپاک الزام ہے ایسا ہی ان کی بعض دادیوں یعنی تمر اور راحب اور بنت سبع پر حرام کاری کے الزام ہیں جن کو پادری صاحبان بھی قبول کرتے ہیں اور سب سے بدتر وہ الزام ہیں جو حضرت مسیح کے چال چلن پر ہیں اور یہ کہ انہوں نے کس طرح ہر ایک بات میں فریب سے کام لیا اور کیونکر خدا نے توریت کے وعدہ کے موافق ان کو آخر کا ر سزائے موت دے دی یہ تمام ذلت اور اہانت اور تہمت کے ایسے الفاظ ہیں جو ایک مسلمان بغیر اس کے جو بے اختیار غصہ میں آ جائے ان کو پڑھ نہیں سکتا۔ پس جب اس قدر حضرت مسیح کی توہین کی گئی کہ جو ایک معمولی انسان کے درجہ پر سے بھی ان کو گرایا گیا تو اس صورت میں یہ واقعہ ایک طبعی امر تھا کہ جو جماعت حضرت مسیح پر (۲۰۳) ایمان لائی تھی وہ رفتہ رفتہ افراط کی طرف مائل ہو جاتی لہذا پُر جوش آدمی جن کو پہلے سے شرک سے پیار تھا بجز اس کے خوش نہ ہو سکے کہ حضرت مسیح کو خدا بنا دیا جائے گویا وہ اس طرح پر یہودیوں کے ان حملوں کا بدلہ اتارنا چاہتے تھے جو نہایت سختی سے حضرت مسیح پر کئے گئے تھے۔ اور عجیب تریہ بات ہے کہ جن انجیلوں سے عیسائی لوگ حضرت مسیح کی خدائی ثابت