عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 694 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 694

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۰ عصمت انبياء عليهم السلام ہیں پس اس طاقتور اور مقتدر خدا کو وہی چھوڑے گا جو سخت بد قسمت اور اندھا ہوگا ہم یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں جس قدر جھوٹے طور پر خدا بنائے گئے ہیں جیسا کہ یسوع ابن مریم اور رام چندر اور کرشن اور بدھ وغیرہ یہ محض بے دلیل بنائے گئے ہیں اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ ایک بکری کو انسان کہا جائے حالانکہ نہ وہ بولتی ہے اور نہ انسانوں کی طرح چل سکتی ہے اور نہ انسانوں کی طرح اس کی صورت ہے اور نہ انسانوں کی طرح وہ عقل رکھتی ہے اور نہ کوئی علامت انسانیت کی اس میں پائی جاتی ہے۔ پس کیا تم ایک بکری ۲۰۲ کو انسان کہہ سکتے ہو حالانکہ بہت سی باتوں میں بکری کو انسان سے شراکت بھی ہے مثلاً بکری کھاتی ہے جیسا کہ انسان کھاتا ہے اور بکری پیشاب اور پاخانہ کرتی ہے جیسا کہ انسان کرتا ہے لیکن کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ مسیح یا رام چندر وغیرہ کو خدا سے کوئی خاص شراکت ہے جو ثابت ہو سکے۔ ان خداؤں کے بنائے جانے کی بجز اس کے اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ بمقابل ایک تفریط کے افراط کا طریق اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً راجہ راون نے جب ایک نہایت سختی سے راجہ رام چندر کی ذلت کی اور اس کی عورت کو لنکالے جانے سے رام چندر کی تمام جماعت کو سخت صدمہ پہنچایا تو جو فریق راجہ رام چندر کا حامی تھا انہوں نے فی الفور راجہ راون کو انسانوں کی نسل سے خارج کیا اور راجہ رام چندر کو ایسے یقین کامل سے پر میشر بنا دیا کہ اب تک تمام ہندو بجائے اپنے پر میشر کا نام لینے کے رام رام ہی کیا کرتے ہیں بلکہ ان کے سلام کا لفظ بھی رام رام ہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں کو یسوع کے خدا بنانے میں ابھی اس قدر غلو نہیں جیسا کہ ہندوؤں کو رام چندر کے خدا بنانے میں غلو ہے یہاں تک کہ ہندوؤں کو اپنے پر میشر کا نام قریباً بھول ہی گیا ہے اور ہر ایک موقع پر کثرت استعمال رام رام کی ہے۔ پس جس بالمقابل غیرت اور غلو کی وجہ سے راجہ رام چندر کو خدا بنایا گیا ہے انہیں اسباب سے