عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 690 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 690

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۶ عصمت انبياء عليهم السلام عیسائی تو مدت ہوئی کہ اس خدا کو کھو بیٹھے ہیں جس پر یقین آنے سے پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور اس کی عظمت اور جلال کے تصور سے در حقیقت گناہ سے بچی بیزاری پیدا ہو جاتی ہے اور یہ لوگ بجائے اس حتی قیوم کے ایک عاجز انسان کو جو مریم کا بیٹا اور یسوع کہلاتا ہے خدا قرار دیتے ہیں حالانکہ نہ وہ دعاؤں کا جواب دے سکتا ہے اور نہ خود کسی کو پکار سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی عظمت اور قدرت ظاہر کر سکتا ہے پس اس کے ذریعہ سے اگر کچی پاکیزگی حاصل ہو تو کیونکر ہو اس کی قدرت کے نمونے جو کتابوں میں لکھے ہیں وہی ہیں جو اس نے یہودیوں کے ہاتھ سے طرح طرح کے دکھ اٹھائے تمام رات کی دعا قبول نہ ہوئی ماں پر قابل شرم الزام قائم ہوا اس کی مدافعت کسی خدائی چھپکار سے نہ کر سکا اس کے معجزات میں اگر وہ صیح بھی مان لئے جائیں کوئی ایسی خوبی نہیں جو دوسرے انبیاء کے معجزات میں نہ ہو بلکہ ایلیا نبی کے معجزات اور اس کا مُردے زندہ کرنا یہ کمال قدرت مسیح کے معجزات سے بہت بڑھ کر ہے ایسا ہی یسعیاہ نبی کے معجزات بھی در حقیقت بعض ایسے ہیں کہ مسیح کے معجزات کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں اور حضرت مسیح کی پیشگوئیاں تو نہایت روی حالت میں ہیں کہ بجائے اس کے کہ ان سے کوئی نیک اثر دلوں پر پڑے ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ یہ کس قسم کی پیشگوئیاں ہیں کہ قحط پڑیں گے ، زلزلے آئیں گے لڑائیاں ہوں گی ۔ حالانکہ ان پیشگوئیوں سے پہلے بھی ملک میں سب کچھ ہو رہا تھا۔ پس ایسے خدا پر کیونکر ایک عقلمند ایمان لاوے یہ تو پہلے قصے ہیں خدا جانے ان واقعات میں سچ کس قدر ہے اور جھوٹ کس قدر لیکن اس زمانہ کے لوگوں کے لئے اس نئے خدا کے ماننے میں جس کا یہودیوں کی تعلیم میں بھی نام ونشان نہیں اور بھی مشکلات بڑھ گئے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے نہ تو مردے زندہ ہوتے بچشم خود دیکھے اور نہ بیماروں میں سے بھوتوں کا نکلنا بچشم خود مشاہدہ کیا اور نہ وہ وعدے پورے ہوئے جو ان کی نسبت کئے گئے تھے یعنی یہ کہ اگر وہ کوئی زہر کھا لیں تو اثر نہیں کرے گی اور اگر ایک