عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 689 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 689

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۵ عصمت انبياء عليهم السلام رائے ظاہر کی جائے کہ وہ چشمہ صافیہ یقین سے بے نصیب ہیں الہذا وہ کچی پاکیزگی سے بھی بے نصیب ہیں جو یقین کے بعد حاصل ہوتی ہے تو وہ اس بات سے بہت غصہ کرتے ہیں اور جوش میں آ کر کہتے ہیں کہ کیا ہم خدا پر یقین نہیں رکھتے کیا ہم اس کو نہیں مانتے۔ پس ان تمام باتوں کا یہی جواب ہے کہ در حقیقت نہ تم خدا پر یقین رکھتے ہو اور نہ اس کو مانتے ہو ۔ افسوس کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایک سوراخ پر جو ان کو دلی یقین ہوتا ہے کہ اس میں ایک زہریلا سانپ ہے وہ اس میں اپنا ہاتھ نہیں ڈالتے کیونکہ اس میں اپنی ہلاکت دیکھتے ہیں لیکن وہ ہر ایک گناہ دلیری سے کر لیتے ہیں وہ ایک ہلا ہل زہر کو نہیں کھاتے کیونکہ جانتے ہیں کہ ہم مرجائیں گے لیکن بڑے بڑے خوفناک جرائم ان سے ظہور میں آتے ہیں بلکہ یقین تو یقین ظن غالب کے مرتبہ پر بھی وہ کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہیں کرتے جس سے کسی ضرر کا احتمال ہے مثلاً وہ کسی ایسی چھت کے نیچے سونا پسند نہیں کرتے جس کا شہتیر کسی قدر ٹوٹ گیا ہے وہ کسی ایسے گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے جس میں ہیضہ یا طاعون شروع ہوگئی ہے پھر کیا باعث ہے کہ باوجود دعوی یقین کے خدا تعالیٰ کے حکموں کو توڑتے ہیں پس یقیناً سمجھو کہ حق یہی بات ہے که در حقیقت ان کو یقین نہیں بلکہ ان کو یہ ظن غالب بھی نہیں کہ ایک مقتدر ذات موجود ہے جو ایک دم میں ہلاک کر سکتی ہے۔ عیسائیوں کا خدا آج کل یہ بیماری کسی خاص فرقہ سے مخصوص نہیں بلکہ جیسے عیسائیوں میں ہے ایسا ہی مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے اور بقدر مراتب مشرقی لوگوں نے بھی اس سے حصہ لیا ہے جیسا کہ مغربی لوگوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں فرق یہ ہے کہ مسلمان تو لا پروائی سے سچے اور قادر خدا سے لا پروا ہیں تاہم ہمیشہ خدا اپنا نور ان پر ظاہر کرتا رہتا ہے اور ہر زمانہ میں ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور بہت سے سعادت کے فرزند اس نور سے حصہ لیتے ہیں لیکن