عصمتِ انبیاءؑ — Page 687
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۳ عصمت انبياء عليهم السلام آسمانی مددگار نہ ہو کیونکہ دل میں یہ یقین ہونا کہ گناہ کے لئے واقعی ایک سزا ہے جس سے انسان بھاگ نہیں سکتا۔ یہ یقین کامل طور پر اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب کامل طور پر معلوم ہو کہ خدا بھی ہے جو گناہ پر سزا دے سکتا ہے لیکن مجرد عقلمند جس کو آسمان سے کوئی روشنی نہیں ملی خدا تعالیٰ پر کامل طور پر یقین نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے خدا کے کلام کو نہیں سنا اور نہ اس کے چہرہ کو دیکھا اس لئے اس کو خدا تعالیٰ کی نسبت بشر طیکہ وہ زمین و آسمان کی مخلوقات پر غور کر کے صحیح نتیجہ تک پہنچ سکے صرف اس قدر علم ہو سکتا ہے کہ ان تمام مصنوعات کا کوئی صانع ہونا چاہئے لیکن اس یقینی قطعی علم تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہ صانع موجود بھی ہے اور ظاہر ہے کہ ہونا چاہئے اور ہے میں بڑا فرق ہے یعنی جو شخص صرف اس قدر علم رکھتا ہے کہ فقط ہونا چاہئے کے مرتبہ پر آ کر ٹھہر گیا ہے پھر ماوراء اس کے اس کی نظر کے سامنے تاریکی ہی تاریکی ہے وہ اس شخص کی مانند اپنے علم کی رو سے ہر گز نہیں کہ جو اس صانع حقیقی کی نسبت صرف یہ نہیں کہتا ۱۹۷۶ کہ ہونا چاہئے بلکہ اس نور کی شہادت سے جو اس کو دیا گیا ہے محسوس بھی کر لیتا ہے کہ وہ ہے بھی اور یہ نہیں کہ صرف وہ آسمانی نور سے خدا کی ہستی کا مشاہدہ کرتا ہے بلکہ اس آسمانی نور کی ہدایت سے اس کے عقلی اور ذہنی قولی بھی ایسے تیز کئے جاتے ہیں کہ اس کا قیاسی استدلال بھی اعلیٰ سے اعلیٰ ہوتا ہے پس وہ دوہری قوت سے خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین رکھتا ہے۔ اس جگہ آسمانی نور سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالی کا یقینی مکالمہ سے نصیب ہوتا ہے یا صاحب مکالمہ سے نہایت شدید اور گہرا تعلق اس کو ہوتا ہے اور مکالمہ الہیہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ عام لوگوں کی طرح ظنی طور پر وہ الہام کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ ظنی الہام کچھ چیز نہیں ہے بلکہ وہ عقل سے بھی نیچے گرا ہوا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ درحقیقت وہ یقینی اور قطعی طور پر خدا تعالیٰ کی ایسی پاک اور کامل وحی ہوتی ہے جس کے ساتھ آسمانی نشان ایک لازمی امر کی طرح ہوتے ہیں اور وہ وجی اپنی ذات میں نہایت شوکت اور عظمت رکھتی ہے اور اپنے