عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 686 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 686

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۲ عصمت انبياء عليهم السلام سے بڑھ کر ہے جس کے ساتھ کوئی کثافت نہیں۔ اور وہ ایک زبر دست کشش ہے جس پر کوئی کشش غالب نہیں۔ اور ایک قوی الاثر تریاک ہے جس سے تمام اندرونی زہریں دور ہوتی ♡ ہیں۔ یہ پانچ چیزیں ہیں جو نور کے طور پر روح القدس کے ساتھ سچی پیروی کرنے والے 197 کے دل پر نازل ہوتی ہیں پس ایسا دل نہ صرف گناہ سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے بلکہ طبعا اس سے متنفر بھی ہو جاتا ہے۔ ان پانچ چیزوں کی طاقت کا جدا جدا بیان تو بہت طول چاہتا ہے مگر ۵۰ صرف پاک معرفت کی خاصیتوں کو کسی قدر تفصیل سے بیان کرنا اس حقیقت کے سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ کیونکر پاک معرفت گناہ سے روکتی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان بلکہ حیوان بھی ہر یک نقصان رساں چیز کی نسبت علم صحیح اور یقینی پا کر پھر اس کے نزدیک نہیں جاسکتا۔ چور کو اگر یہ اطلاع ہو کہ جس جگہ میں نقب لگانا چاہتا ہوں اس جگہ مخفی طور پر ایک جماعت کھڑی ہے جو عین نقب زنی کی حالت میں مجھے پکڑلے گی تو وہ ہرگز اس بات پر جرات نہیں کر سکتا کہ نقب لگاوے بلکہ اگر ایک پرند بھی اس بات کو تاڑ جائے کہ یہ چند دانہ جو میرے لئے زمین پر پھیلائے گئے ہیں ان کے نیچے دام ہے تو وہ ان دانوں کے نزدیک نہیں آتا ایسا ہی اگر مثلاً ایک نہایت عمدہ لطیف کھانا پکایا گیا ہو مگر کسی شخص کو یہ علم ہو جائے کہ اس کھانے میں زہر ہے ے تو تو وہ وہ کبھی کبھی اس اس کھانے کھانے کے نزدیک نہیں آتا د پس ان تمام مشاہدات سے صاف ظاہر ہے کہ انسان جب ایک موذی اور نقصان رساں چیز کی نسبت پورا علم حاصل کرلے تو کبھی اس چیز کی طرف رغبت نہیں کرتا بلکہ اس کی شکل سے بھاگتا ہے لہذا یہ امر قابل تسلیم ہے کہ اگر انسان کو کسی ذریعہ سے اس بات کا علم ہو جائے کہ گناہ ایسی مہلک زہر ہے جو فی الفور ہلاک کرتی ہے تو بلا شبہ بعد اس علم کے انسان گناہ کا مرتکب ہرگز نہیں ہو گا لیکن اس جگہ طبعا یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ وہ ذریعہ کونسا ہے۔ کیا عقل یہ ذریعہ ہو سکتی ہے۔ تو اس کا یہی جواب ہے کہ عقل ہرگز کامل ذریعہ نہیں ہو سکتی جب تک کوئی