عصمتِ انبیاءؑ — Page 685
روحانی خزائن جلد ۱۸ ΥΛΙ عصمت انبياء عليهم السلام مان کر پورے صدق اور صفا اور محبت اور اطاعت سے آپ کی پیروی کرتا ہے یہاں تک کہ کامل اطاعت کی وجہ سے فنا کے مقام تک پہنچ جاتا ہے تب اس تعلق شدید کی وجہ سے جو آپ کے ساتھ ہو جاتا ہے وہ الہی نور جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتر تا ہے اس سے یہ شخص بھی حصہ لیتا ہے تب چونکہ ظلمت اور نور کی باہم منافات ہے وہ ظلمت جو اس کے اندر ہے دور ہونی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کوئی حصہ ظلمت کا اس کے اندر باقی نہیں رہتا اور پھر اس نور سے قوت پا کر اعلیٰ درجہ کی نیکیاں اس سے ظاہر ہوتی ہیں اور اس کے ہر یک عضو میں سے محبت الہی کا نور چمک اٹھتا ہے تب اندرونی ظلمت بکلی دور ہو جاتی ہے اور علمی رنگ سے بھی اس میں نور پیدا ہو جاتا ہے اور عملی رنگ سے بھی نور پیدا ہو جاتا ہے آخران نوروں کے اجتماع ے گناہ کی تاریکی اس کے دل سے کوچ کرتی ہے یہ تو ظاہر ہے کہ نور اور تاریکی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے لہذا ایمانی نور اور گناہ کی تاریکی بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور اگر ایسے شخص سے اتفاقاً کوئی گناہ ظہور میں نہیں آیا تو اس کو اس اتباع سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ گناہ کی طاقت اس سے مسلوب ہو جاتی ہے اور نیکی کرنے کی طرف اس کو رغبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ آپ قرآن شریف میں فرماتا ہے حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ کہ خدا نے تم پر پاک روح نازل کر کے ہر یک نیکی کی تم کو رغبت دی اور کفر اور فسق اور عصیان تمہاری نظر میں مکر وہ کر دیا۔ لیکن اگر اس جگہ یہ سوال ہو کہ وہ نور جو بذریعہ نبی علیہ السلام کے پیروی کرنے والے کو ملتا ہے جس سے گناہ کے جذبات دور ہو جاتے ہیں وہ کیا چیز ہے سو اس سوال کا یہ جواب ہے کہ وہ ایک پاک معرفت ہے جس کے ساتھ کوئی تاریکی شک اور شبہ کی نہیں ۔ اور وہ ایک پاک محبت ہے جس کے ساتھ کوئی نفسانی غرض نہیں۔ اور وہ ایک پاک لذت ہے جو تمام لذتوں الحجرات : ۸