عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 684 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 684

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۰ عصمت انبياء عليهم السلام سب اس نور کے وارث ہوئے یہاں تک کہ آخری وارث ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے پس ان تمام پاک نبیوں نے جیسا کہ آدم سے وارثت میں جسمانی نقوش پائے ایسا ہی بحیثیت خلیفہ ہو نے آدم کے اس سے خدائی روح بھی پایا پھر ان کے ذریعہ سے وقتا فوقتا اور لوگ بھی وارث ہوتے گئے ۔ ۔ قرآن شریف سے آنحضرت صلی اللہیم کی شفاعت کا ثبوت اور قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے بارے میں مختلف مقامات میں ذکر فرمایا گیا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُونِي يُخبكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ + ترجمہ۔ کہہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے ۔ اب دیکھو کہ یہ آیت کس قدر صراحت سے بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا جس کے لوازم میں سے محبت اور تعظیم اور اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس کا ضروری نتیجہ یہ ہے کہ انسان خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں یعنی اگر کوئی گناہ کی زہر کھا چکا ہے تو محبت اور اطاعت اور پیروی کے تریاق سے اس زہر کا اثر جاتا (۱۹۵) رہتا ہے اور جس طرح بذریعہ دوا مرض سے ایک انسان پاک ہو سکتا ہے ایسا ہی ایک شخص گناہ سے پاک ہو جاتا ہے اور جس طرح نور ظلمت کو دور کرتا ہے اور تریاق زہر کا اثر زائل کرتا ہے اور آگ جلاتی ہے ایسا ہی کچی اطاعت اور محبت کا اثر ہوتا ہے۔ دیکھو آگ کیونکر ایک دم میں جلا دیتی ہے۔ پس اسی طرح پُر جوش نیکی جو محض خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لئے کی جاتی ہے وہ گناہوں کے خس و خاشاک کو بھسم کرنے کے لئے آگ کا حکم رکھتی ہے جب ایک انسان سچے دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور آپ کی تمام عظمت اور بزرگی کو ال عمران : ۳۲