عصمتِ انبیاءؑ — Page 682
روحانی خزائن جلد ۱۸ عصمت انبياء عليهم السلام تمام کام اپنی ماں کی طاقت سے نکالتا ہے اور ہر ایک دوسرا بچہ جو اس سے مخالفت کرتا ہے یا کوئی کتا اس کے سامنے آتا ہے یا کوئی اور خوف نمودار ہوتا ہے یا کسی لغزش کی جگہ پر اپنے ۱۹۳ تئیں پاتا ہے تو فی الفور اپنی ماں کو پکارتا ہے تا وہ جلد تر اس کی طرف دوڑے اور اس آفت سے اس کو بچاوے۔ یہی حال ان روحانی بچوں کا ہوتا ہے کہ بعینہ اپنے رب کو ماں کی طرح سمجھ کر اس کی طاقتوں کو اپنا ذخیرہ سمجھتے ہیں اور ہر وقت اور ہر دم اس کی طاقتوں کو طلب کرتے رہتے ہیں اور جس طرح شیر خوار بچہ جب بھوک کے وقت اپنا منہ اپنی ماں کے پستان پر رکھ دیتا ہے اور اپنی طبعی کشش سے دودھ کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے تو جبھی کہ ماں محسوس کرتی ہے کہ گریہ اور زاری کے ساتھ اس بچہ کے نرم نرم ہونٹ اس کے پستان پر جا لگے ہیں تو طبعاً اس کا دودھ جوش مارتا ہے اور اس بچہ کے منہ میں گرتا جاتا ہے پس یہی قانون ان بچوں کے لئے بھی ہے جو روحانی دودھ کے طالب اور جو یاں ہیں۔ ضرورت شفاعت ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی شخص یہ سوال بھی پیش کرے کہ انسان کو شفاعت کی کیوں ضرورت ہے اور کیوں جائز نہیں کہ ایک شخص براہِ راست تو بہ اور استغفار کر کے خدا سے معافی حاصل کر لے۔ اس سوال کا جواب قانون قدرت خود دیتا ہے کیونکہ یہ بات مسلّم ہے اور کسی کو اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ انسان بلکہ تمام حیوانات کی نسل کا سلسلہ شفاعت پر ہی چل رہا ہے کیونکہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ شفاعت کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی جفت ہے پس اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ تمام برکات تناسل شفع سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔ ایک انسان کے اخلاق اور قوت اور صورت دوسرے انسان میں اسی ذریعہ سے آجاتے ہیں یعنی وہ ایک جوڑ کا ہی نتیجہ ہوتا ہے ایسا ہی ایک حیوان جو دوسرے سے پیدا ہوتا