اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 454
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۴۸ اسلامی اصول کی فلاسفی یہی وجہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کے پرانے کینے یکلخت دور ہو گئے ۔ آپ کا بڑا بھاری خلق جس کو آپ نے ثابت کر کے دکھلا دیا وہ خلق تھا جو قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے۔ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے یعنی اس کا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے تا میرے مرنے سے ان کو زندگی حاصل ہو۔ اس جگہ جو خدا کی راہ میں اور بندوں کی بھلائی کے لئے مرنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ آپ نے نعوذ باللہ جاہلوں یا دیوانوں کی طرح در حقیقت خود کشی کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس وہم سے کہ اپنے تئیں کسی آلہ سے قتل کے ذریعہ سے ہلاک کر دینا اور وں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ آپ ان بیہودہ باتوں کے سخت مخالف تھے اور قرآن ایسی خود کشی کے مرتکب کو سخت مجرم اور قابل سز ا ٹھہراتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ! یعنی خود کشی نہ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے باعث نہ ٹھہر واور یہ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً خالد کے پیٹ میں درد ہو اور زید اس پر رحم کر کے اپنا سر پھوڑے تو زید نے خالد کے حق میں کوئی نیکی کا کام نہیں کیا بلکہ اپنے سر کو احمقانہ حرکت سے ناحق پھوڑا۔ نیکی کا کام تب ہوتا کہ جب زید خالد کی خدمت میں مناسب اور مفید طریق کے ساتھ سرگرم رہتا اور اس کے لئے عمدہ دوائیں میسر کرتا اور طبابت کے قواعد کے موافق اس کا علاج کرتا مگر اس کے سر کے پھوڑنے سے زید کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچا ۔ ناحق اس نے اپنے وجود کے ایک شریف عضو کو دکھ پہنچایا ۔ غرض اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ہمدردی اور محنت اٹھانے سے بنی نوع کی رہائی کے لئے جان کو وقف کر دیا تھا اور دعا الانعام: ١٦٣ ٢ البقرة : ١٩٦