اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 453
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۴۷ اسلامی اصول کی فلاسفی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دوزمانے اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سوارخ کو دو حصوں پر منقسم کر دیا۔ ایک حصہ دکھوں اور مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور دوسرا حصہ فتح یابی کا تا مصیبتوں کے وقت میں وہ خلق ظاہر ہوں جو مصیبتوں کے وقت ظاہر کرتے ہیں اور فتح اور اقتدار کے وقت میں وہ خلق ثابت ہوں جو بغیر اقتدار کے ثابت نہیں ہوتے ۔ سوایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قسم کے اخلاق دونوں زمانوں اور دونوں حالتوں کے وارد ہونے سے کمال وضاحت سے ثابت ہو گئے۔ چنانچہ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا۔ اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارا کرنا اور اپنے کام میں سست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور پر دکھلا دیئے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو (۸۷) اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا۔ اور پھر جب دوسرا زمانہ آیا یعنی فتح اور اقتدار اور ثروت کا زمانہ ، تو اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق عفو اور نجات اور شجاعت کے ایسے کمال کے ساتھ صادر ہوئے جو ایک گروہ کثیر کفار کا انہی اخلاق کو دیکھ کر ایمان لایا۔ دکھ دینے والوں کو بخشا اور شہر سے نکالنے والوں کو امن دیا۔ ان کے محتاجوں کو مال سے مالا مال کر دیا اور قابو پا کر اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بخش دیا۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے آپ کے اخلاق دیکھ کر گواہی دی کہ جب تک کوئی خدا کی طرف سے اور حقیقتاً راستباز نہ ہو یہ اخلاق ہرگز دکھا نہیں سکتا۔ حمید اصل مسودہ میں ظاہر ہوا کرتے‘ الفاظ مرقوم ہیں۔ (ناشر) اصل مسودہ میں ” سخاوت کا لفظ مرقوم ہے۔ (ناشر)