اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 449
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۴۳ اسلامی اصول کی فلاسفی بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب کا منہ دیکھ سکیں۔ میں جوان تھا۔ اب بوڑھا ہوا مگر میں نے کوئی نہ پایا جس نے بغیر اس پاک چشمہ کے اس کھلی کھلی معرفت کا پیالہ پیا ہو۔ کامل علم کا ذریعہ خدائے تعالیٰ کا الہام ہے اے عزیز و۔ اے پیارو۔ کوئی انسان خدا کے ارادوں میں اس سے لڑائی نہیں کرسکتا۔ یقینا سمجھ لو کہ کامل علم کا ذریعہ خدا تعالیٰ کا الہام ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو ملا۔ پھر بعد اس کے اس خدا نے جو دریائے فیض ہے یہ ہر گز نہ چاہا کہ آئندہ اس الہام کو مہر لگا دے اور اس طرح پر دنیا کو تباہ کرے بلکہ اس کے الہام اور مکالمے اور مخاطبے کے ہمیشہ دروازے کھلے ہیں۔ ہاں ان کو ان کی راہوں سے ڈھونڈ و۔ تب وہ آسانی سے تمہیں ملیں گے۔ وہ زندگی کا پانی آسمان سے آیا اور مناسب مقام پر ٹھہرا۔ اب تمہیں کیا کرنا چاہیے تا تم اس پانی کو پی سکو۔ یہی کرنا چاہیے کہ افتان و خیزاں اس چشمہ تک پہنچو، پھر اپنا منہ اس چشمہ کے آگے رکھ دوتا اس زندگی کے پانی سے سیراب ہو جاؤ ۔ انسان کی تمام سعادت اسی میں ہے کہ جہاں روشنی کا پتہ ملے اسی طرف دوڑے اور جہاں اس گم گشتہ دوست کا نشان پیدا ہو، اسی راہ کو اختیار کرے۔ دیکھتے ہو کہ ہمیشہ آسمان سے روشنی اترقی اور زمین پر پڑتی ہے۔ اسی طرح ہدایت کا سچا نور آسمان سے ہی اترتا ہے۔ انسان کی اپنی ہی باتیں اور اپنی ہی اٹکلیں سچا گیان اس کو نہیں بخش سکتیں ۔ کیا تم خدا کو بغیر خدا کی تجلی کے پاسکتے ہو؟ کیا تم بغیر اس آسمانی روشنی کے اندھیرے میں دیکھ سکتے ہو؟ اگر دیکھ سکتے ہو تو شاید اس جگہ بھی دیکھ لو ۔ مگر ہماری آنکھیں گو بینا ہوں تا ہم آسمانی روشنی کی محتاج ہیں اور ہمارے کان گوشنوا ہوں تا ہم اس ہوا کے حاجتمند ہیں جو خدا کی طرف سے چلتی ہے۔ وہ خدا سچا خدا نہیں ہے جو خاموش ہے اور سارا مدار ہماری انکلوں پر